Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5203

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ، فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ؟ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: كَلَّا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا لَمْ آخُذْ بِهِ، قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَهْ.

وعن معاوية: أنه دخل على خاله أبي هاشم بن عتبة يعوده، فبكى أبو هاشم، فقال: ما يبكيك يا خال؟ أوجع يشئزك أم حرص على الدنيا؟ قال: كلا ولكن رسول الله عهد إلينا عهدا لم آخذ به، قال: وما ذلك؟ قال: سمعته يقول: "إنما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله"، وإني أراني قد جمعت. رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہ وہ اپنے ماموں سے کہ وہ اپنے ماموں ابن ابی ہاشم کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو ابو ہاشم رونے لگے ۱؎انہوں نے کہا کہ اے ماموں کیا تکلیف تمہیں پریشان کررہی ہے یا دنیا کی حرص؟۲؎وہ بولے ہرگز نہیں لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم سے ایک عہد لیا تھا میں نے وہ اختیار نہ کیا ۳؎پوچھا وہ عہد کیا ہے ؟ فرمایا میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تمہیں مال جمع کرنے میں ایک خادم اور ایک سواری وہ بھی الله کی راہ کے لیے ہو کافی ہے۴؎اور میں اپنے کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے جمع کیا ہے۵؎(احمد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات ابھی کچھ پہلے عرض کیے گئے۔آپ عتبہ کے بیٹے ہیں،ہندہ بنت عتبہ آپ کی بہن ہیں اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تو آپ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماموں ہوئے،آپ کی یہ مرض مرض وفات تھی،غالبًا آپ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر رو پڑے تھے پہلے سے نہیں رو رہے تھے۔
۲
؎یشئزبنا ہےشازسے بمعنی قلق اور دل کی بے چینی،بے قراری یعنی آپ کا یہ رونا مجھے بے قراری کی وجہ سے معلوم ہوتاہے،اگر بے قراری مرض کی تکلیف سے ہے تو طبیب کو بلاتے ہیں اور اگر اپنی غریبی سے ہے تو جتنا مال چاہیے ہم حاضر کردیتے ہیں۔امیر معاویہ کی سخاوت تو مشہور ہے اس کے متعلق ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر کا مطالعہ کرو۔
۳
؎یہ فرمان حضرات صحابہ کی انتہائی انکساری کا ہوتا تھا ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے فرمانوں پر جیسا عمل حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا اس کی مثال گزشتہ انبیاء کرام کے اصحاب میں نہیں ملتی۔
۴
؎حضور انور کا یہ عہد ساری امت سے ہے اور اس میں ترک دنیا کی رغبت ہے یعنی اگر تمہارے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ ہو تو غم نہ کرو کہ اتنا مال کافی ہے لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ مسلمانوں کے لیے مال رکھنا ہی حرام ہے ورنہ پھر زکوۃ ، فطرانہ، قربانی،حج عمرہ وغیرہ عبادات کیسے ادا ہوں گی۔
۵
؎یعنی میرے پاس ان چیزوں سے زیادہ مال ہے،آپ کا یہ رونا اس پر افسوس کرنا بھی عبادت ہے کہ یہ گریہ دراصل حضور صلی الله علیہ وسلم کے عشق و محبت میں ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہر ادا ہر قول پیارا معلوم ہوتا ہے جب وہ یاد آتے ہیں تو آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5203