Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5173

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بعِبَادَةٍ وَاجْتِهَادٍ، وَذُكِرَ آخَرُ بِرِعَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَعْدِلْ بِالرِّعَةِ"، يَعْنِي الْوَرَعَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن جابر قال: ذكر رجل عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بعبادة واجتهاد، وذكر آخر برعة، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "لا تعدل بالرعة"، يعني الورع. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کی عبادت و مشقت کا ذکر ہوا اور دوسرے کے تقویٰ کا ۱؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبادت تقویٰ کے برابر نہیں ہوسکتی یعنی پرہیزگاری کے۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎تقویٰ سے مراد گناہوں سے بچنا ہے یعنی عرض کیا گیا کہ فلاں شخص نفلی عبادات بہت کرتا ہے مگر گناہوں میں احتیاط کم کرتا ہے اور دوسرا آدمی نوافل کم ادا کرتا ہے مگر گناہوں سے بہت بچتا ہے حتی کہ شبہات سے بھی بھاگتا ہے ان میں افضل کون ہے۔
۲
؎لا تعدلیا تو نہی مخاطب ہے یا نفی مؤنث غائب یعنی نوافل کو تقویٰ کے برابر نہ کرو یا نوافل تقویٰ کے برابر نہیں ہوسکتے۔ خیال رہے کہ تقویٰ کے تین درجے ہیں:تقویٰ عوام محرمات شرعیہ سے بچنا،تقویٰ خواص کا یعنی شبہات سے بچنا اور تقویٰ خاص الخاص کا بقدر ضرورت حلال چیزیں رکھنا زیادہ سے بچنا،یہ آخری تقویٰ حضرات انبیاء شہد اء صالحین کا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5173