Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5191

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنٍ مِحْصَنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ،عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيرِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن عبيد الله بن محصن قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من أصبح منكم آمنا في سربه، معافى في جسده،عنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا بحذافيرها". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید اابن محصن سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو شخص تم میں سے صبح پائے کہ اس دل میں امن وامان ہو ۲؎اپنے جسم میں تندرستی،اس کے پاس اس دن کا کھانا ہو تو گویا اس کے لیے دنیا پوری کی پوری جمع کردی گئی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں مگر حضور سے کوئی حدیث سنی نہیں لہذا آپ کی احادیث مرسل ہیں اور صحابی کا ارسال بالاتفاق مقبول ہے۔آپ قبیلہ بنی خطم سے ہیں،اہل مدینہ میں شمار ہیں،بعض لوگوں نے آپ کو تابعی مانا ہے اور تابعی کی مرسل معتبر ہے جمہور کے نزدیک۔
۲
؎سربسین کے فتحہ یا کسرہ سے ر کے سکون سے بمعنی راستہ،چہرہ،سینہ،دل،نفس،یہاں بمعنی دل ہے یعنی اس کو نہ دشمن کا خوف ہو نہ عذاب الٰہی کا خطرہ کیونکہ اس کا دشمن کوئی نہ ہو اور اس نے کفریا گناہ نہ کیا ہو۔اہل عرب کہتے ہیںلیس العید لمن لبس الجدید انما العید لمن امن الوعیدیعنی عید اس کی نہیں جو نئے کپڑے پہن لے بلکہ عید اس کی ہے جو عذاب سے امن میں ہو۔
۳
؎حذافیرجمع ہےحذفورہکی بمعنی کنارہ جیسےعصفورکی جمععصافیر،جمہورکی جمعجماھیر۔لہذاحذافیرکے معنی ہوئے کنارے یعنی جس کو نفسانی امن و عافیت،دل کا چین،بدن کی صحت کچھ تھوڑا سا آج کے گزارہ کا مال میسر ہو تو وہ بادشاہ ہے،اتعالٰی نے اسے ہر قسم کی نعمت دی ہوئی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5191