Main Icon

باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5158

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیا مؤمن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مؤمن دنیا میں کتنا ہی آرام میں ہو مگر اس کے لیے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا جیل خانہ ہے جس میں وہ دل نہیں لگاتا۔جیل اگرچہ اے کلاس ہو پھر بھی جیل ہے اور کافر خواہ کتنے ہی تکالیف میں ہوں مگر آخرت کے عذاب کے مقابلہ اسکے لیے دنیا باغ اور جنت ہے وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے،لہذا حدیث شریف پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض مؤمن دنیا میں آرام سے رہتے ہیں اور بعض کافرتکلیف میں۔ایک روایت میں ہے کہ حضور انور نے فرمایا اے ابو ذر! دنیا مؤمن کی جیل ہے اور قبر اس کے چھٹکارے کی جگہ،جنت اس کے رہنے کا مقام ہے اور دنیا کافر کے لیے جنت ہے،موت اس کی پکڑ کا دن اور دوزخ اس کا ٹھکانا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5158