Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4380

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلْ مَا شِئْتَ وَالْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ وَمَخِيلَةٌ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ

وعن ابن عباس قال: كل ما شئت والبس ما شئت ما أخطأتك اثنتان: سرف ومخيلة. رواه البخاري في ترجمة باب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا جو چاہو کھا ؤ اور جوچاہو پہنو ۱؎جب کہ دو چیزیں تم سے الگ رہیں فضول خرچی ۲؎اور تکبر۔(بخاری ترجمہ باب)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اعلٰی سے اعلٰی مباح کھانا کھا ؤ اور بڑھیا سے بڑھیامباح لباس پہنو،الله نے اعلیٰ لباس اور الله نے کھانے تمہارے ہی لیے بنائے ہیں،حلال کھانے چھوڑنے کا نام تقویٰ نہیں حرام خصلتیں چھوڑنے کا نام تقویٰ ہے۔بعض لوگ گوشت نہیں کھاتے مگر بھنگ چرس پینے میں نماز کے قریب نہیں آتے اور اپنے کو پہنچا ہوا کہتے ہیں،واقعی وہ شیطان تک پہنچے ہیں۔
۲
؎کھانے پینے کی مقدار میں حد سے بڑھ جانا اسراف و فضول خرچی ہے۔کیفیت میں حد سے بڑھ جانا مخیلہ یا تکبر ہے اسی لیے علماء فرماتے ہیںلاخیر فی اسرفاورلا اسرف فی الخیریعنی اسراف میں بھلائی نہیں اور بھلائی میں اسراف نہیں۔بعض حضرات فرماتے ہیں کہ دل و نفس کی ہر خواہش پوری کرنا اسراف ہے کہ جو دل چاہے وہ ہی کھائے پئے اور فخر کی نیت سے اچھے کھانا مخیلہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4380