Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4339

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: عَمَّمَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَدَلَهَا بَيْنَ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن عبد الرحمن بن عوف قال: عممني رسول الله صلى الله عليه وسلم فسدلها بين يدي ومن خلفي. رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے عمامہ باندھا ۱؎تو اسے میرے آگے اور پیچھے لٹکا دیا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میرے سر پر خود اپنے دستِ مبارک سے عمامہ لپیٹا۔آج کل فارغ التحصیل طلباء کے سروں پر علماء عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسم دستار بندی کہا جاتا ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے۔
۲
؎اس طرح کہ عمامہ کا پہلا شملہ تو سینہ پر ڈالا اور آخری شملہ پیٹھ پر ڈالا یہ ہی سنت ہے۔بعض لوگ آخری شملہ اونچا رکھتے ہیں جسےطرہکہتے ہیں یہ خلاف سنت ہے،ہاں یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ دوسرا شملہ کبھی رکھا گیا ہے کبھی نہیں۔خیال رہے کہ نماز پنجگانہ کے لیے سات ہاتھ اور نماز جمعہ کے لیے بارہ ہاتھ کا عمامہ بہتر ہے،اس کا شملہ کم از کم چار انگل ہو زیادہ سے زیادہ آدھی پیٹھ تک اس سے زیادہ ممنوع ہے۔شملہ پشت پر رہے یا داہنے ہاتھ کی طرف سینہ پر،بائیں ہاتھ کی طرف سنت کے خلاف ہے،کھڑے ہوکر باندھنا سنت ہے مسجد میں باندھے یا کہیں اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4339