Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4378

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ فَأَمَّا الْعَلَمُ وَسَدَى الثَّوْبِ فَلَا بَأْسَ بِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عباس قال: إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثوب المصمت من الحرير فأما العلم وسدى الثوب فلا بأس به . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا جو خالص ریشمی ہو ا؎لیکن نشان ۲؎اور کپڑے کا تانا اس میں حرج نہیں ۳؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اس کا تانا بانا دونوں ریشم کا ہو۔مصمتکے لغوی معنی ہیں ٹھوس اس کا مقابل ہے کھکل مگر اصطلاح میں خالص کومصمتکہا جاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔ریشم سے مراد اصل یعنی کیڑے کا ریشم کیونکہ سن کا ریشم اور دریائی ریشم مرد کو حلال ہے کہ وہ ریشم نہیں ہے۔ریشم اصل کی پہچان یہ ہے کہ اس کو جلا ؤ تو اس سے گوشت کے جلنے کی سی بو آتی ہے۔
۲
؎یعنی سوتی کپڑے پر نمبر یا کارخانہ کا نام یا کوئی علامت یوں ہی بیل بوٹا اگر ریشم کا ہو تو جائز ہے بشرطیکہ چار انگل سے زائد نہ ہو۔
۳
؎اس طرح کہ کپڑا کا بانا سوت یا اون کا ہو اور تانا ریشم کا تو مرد کے لیے حلال ہے کیونکہ کپڑا تانے بانے ہی کا نام ہے وہ ہی بنا جاتا ہے،لمبا تار تانا کہلاتا ہے،چوڑائی والا تار جو بناجاتا ہے اسے بانا کہتے ہیں،بانے کا اعتبار ہے تانے کا نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4378