Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4366

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهٖ » . فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ: «وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهٗ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن دحية بن خليفة قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بقباطي فأعطاني منها قبطية فقال: «اصدعها صدعين فاقطع أحدهما قميصا وأعط الآخر امرأتك تختمر به » . فلما أدبر قال: «وأمر امرأتك أن تجعل تحته ثوبا لا يصفها» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت دحیہ ابن خلیفہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں قباطی کپڑے لائے گئے ۲؎تو حضور نے مجھے اس میں سے ایک قبطی عطا فرمایا پھر فرمایا اس کے دو ٹکڑے کرلو ان میں سے ایک کی قمیض کٹوا لو اور دوسرا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کا دوپٹہ بنالیں۳؎پھر جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو فرمایا اپنی بیوی سے کہہ دو کہ اس کے نیچے اور کپڑا رکھیں جو ظاہر نہ ہونے دے۴؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ وہ ہی دحیہ کلبی مشہور صحابی ہیں جن کی شکل میں اکثر حضرت جبریل امین آیا کرتے تھے،انہی کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے ۶؁∞ چھ ہجری میں قیصر روم کی تبلیغ کے لیے بھیجا تھا،احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے،شام میں قیام رکھا،حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی،دحیہ دال کے کسرہ سے ہے۔
۲
؎قباطیجمع ہےقبطیۃکی۔یہ ایک خاص قسم کے کپڑے کا نام ہے جو باریک سفید ہوتا ہے،مصر میں بنتا ہے اگرچہقبطقاف کے کسرہ سے ہے مگر قبطی کپڑا ق کے پیش سے ہے۔غالبًا کہیں سے ہدیۃً آئے تھے خریدے نہ گئے تھے۔
۳
؎معلوم ہوا کہ یہ کپڑے ریشمی نہ تھے سوتی تھے ورنہ مرد کو اس کا پہننا حلال نہ ہوتا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ اس زمانہ شریف میں بھی ایسے باریک کپڑے ایجاد ہوگئے تھے جن سے سترحاصل نہ ہوسکتا تھا۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ عورت کو باریک کپڑے کا دوپٹہ اوڑھنا درست ہے۔دوسرے یہ کہ ایسے باریک کپڑے کے نیچے کوئی موٹا کپڑا ضرور سر پر رکھے تاکہ بال و سر ظاہر نہ ہوں ورنہ نماز درست نہ ہوگی اور بے پردگی بھی ہوگی،خاوند کے سامنے تنہائی میں ویسے بھی اوڑھ سکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4366