Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4333

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ: كَانَ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ

وعن أبي كبشة قال: كان كمام أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بطحا. رواه الترمذي وقال: هذا حديث منكر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو کبشہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ٹوپیاں چمٹی ہوتی تھیں۲؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث منکر ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عمرو بن سعید انصاری ہے،کنیت ابوکبشہ،شام میں قیام رہا۔
۲
؎کمامجمعکمۃکی، کاف کے پیش سے جیسےقبہکی جمع ہےقباب،کمہکی اصل ہےکمبمعنی ڈھکنا گھیرنا،اب اصطلاح میں ٹوپی کوکمہکہا جاتا ہے کہ وہ سر کو گھیرتی اسے ڈھکتی ہے اوربطحجمع ہےابطحکی بمعنی فراخ اور چوڑی اس لیے زمین مدینہ کو ابطح بھی کہا جاتا ہے کہ وہ وسیع و فراخ ہے۔یہاں بطحا سے مراد ہے چوڑی ٹوپی جو گول ہو اور فراخ کہ سر سے اٹھی نہ رہے بلکہ ساری کھوپڑی پر چمٹی رہے حضرات صحابہ کی ٹوپیاں ایسی ہی ہوتی تھیں۔بعض شارحین نےکمامکوکُمٌّبمعنی آستین کی جمع فرمایا اور حدیث کے معنی یہ کیے کہ صحابہ کرام کی آستین فراخ و چوڑی ہوتی تھیں مگر پہلے معنی قوی ہیں کیونکہکمکی جمعاکمامآتی ہے نہ کہکمام۔مرقات نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کی ٹوپیوں کی چوڑائی ایک بالشت ہوتی تھی سارے سر پر چمٹی ہوتی تھیں۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ ٹوپیاں بھی اوڑھتے تھے عمامہ لازم بھی تھے بلکہ عمامہ بھی ٹوپیوں پر ہی باندھتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4333