Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4340

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رُكَانَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى القَلَانِسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَإِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِالقَائِمِ.

وعن ركانة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب وإسناده ليس بالقائم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رکانہ سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامے ہیں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور انس کی اسناد قوی و قائم نہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ رکانہ ابن عبد یزید ابن ہاشم ابن عبدالمطلب ہیں،قریشی ہاشمی ہیں،بڑے محدث بڑے شجاع صحابی ہیں، خلافت عثمانی میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی بغیر ٹوپی عمامہ باندھنا طریقہ مشرکین ہے اور ٹوپی پر عمامہ باندھنا طریقہ مؤمنین ہے لہذا ٹوپی پر عمامہ باندھو ٹوپی خواہ سر سے چمٹی ہوئی ہو یا اٹھی ہوئی جسے پنجابی میں کلاہ کہتے ہیں۔(مرقات)عمامہ بہت افضل ہے،بغیر عمامہ کی ۷۰ نمازیں اور عمامہ سے ایک نماز برابر ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹوپی پر عمامہ اس طرح باندھے کہ ٹوپی کھلی نہ رہے اگر کلاہ ہو تو اس کے نیچے بھی عمامہ کا کچھ حصہ ہو۔ٹوپی کھلے رہنے میں اعتجار کا احتمال ہے۔اعتجار یہ ہے کہ سر کے آس پاس عمامہ ہو بیچ حصہ کھلا ہو جیسے کہ عام دیہاتی باندھتے ہیں یہ ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4340