Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4336

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعُوهُ وَإِنَّهٗ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهٖ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن معاوية بن قرة عن أبيه قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في رهط من مزينة فبايعوه وإنه لمطلق الأزرار فأدخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ ابن قرہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزینہ کی ایک جماعت میں آیا لوگوں نے آپ سے بیعت کی ۲؎آپ کے بٹن کھلے ہوئے تھے میں نے حضور کی قمیض کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۳؎تو مہر نبوت کو چھوا ۴؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ معاویہ ابن قرہ ابن ایاس مزنی ہیں،تابعی ہیں،جنگ جمل کے دن پیدا ہوئے،اپنے والد اور انس ابن مالک،عبداللہ ابن مفضل صحابہ سے ملاقات ہے،ان کے والد صحابی ہیں،بصرہ میں قیام رہا،ان سے روایت صرف ان کے بیٹے معاویہ نے ہی کی،یہ قوم ازارقہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(مرقات)
۲
؎تین سے لےکر دس تک کی جماعت کورھطکہتے ہیں۔مزینہ والے لوگ چار سو تھے جو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں باری باری حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے،ایک ٹولی میں یہ تھے لہذا یہ حدیث اور چار سو والی روایت کے خلاف نہیں۔
۳
؎جیبکہ لفظی معنی ہیں پھٹن،اصطلاح میں گریبان کو جیب کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گریبان شریف سینہ پر نہ ہوتا تھا بلکہ گردن شریف کے داہنے بائیں جگہ کھلی تھی جس سے قمیض پہنتے اور اتارتے تھے مگر آج گریبان والی قمیض زیب تن فرما تھے جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔بعض لوگوں نے سینہ پر گریباں بنانے کو بدعت کہا ہے مگریہ غلط ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گریباں بھی ثابت ہے۔(مرقات)آپ کا گریبان شریف میں ہاتھ ڈال دینا بے ادبی سے نہ تھا بلکہ اس مقصد کے لیے تھا جو آگے آرہا ہے یعنی مہر نبوت کو چھوکر بوسہ دینا۔
۴
؎مہر نبوت شریف کا ذکران شاءاللهعنقریب آوے گا،یہ چھونا برکت حاصل کرنے اور بوسہ دینے کے لیے تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4336