Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4369

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهٗ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللّٰهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَهٗ. فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهٗ خُيَلَاءَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة . فقال أبو بكر: يا رسول الله إزاري يسترخي إلا أن أتعاهده. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:إنك لست ممن يفعله خيلاء. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنا کپڑا تکبرًا نیچا رکھے ۱؎تو قیامت کے دن الله اس کیطرف نظر نہ فرمائے گا ۲؎حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول الله میرا تہبند لٹک جاتا ہے۳؎مگر یہ کہ اس کا بہت ہی خیال رکھوں ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے نہیں جو یہ کام تکبرًا کریں ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کپڑے سے مراد تہبند یا پائجامہ ہے اور نیچے سے مراد ٹخنوں کے نیچے ہے۔تکبرًافرما کر اشارہ کیا گیا کہ فیشن یا فخر کے لیے یہ حرکت مکروہ تحریمی ہے،بے خیالی میں نیچے ہوجانا اتنا سخت ممنوع نہیں جیساکہ آئندہ مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔غرضیکہ ان قیود سے بہت مسائل معلوم ہوئے۔
۲
؎یعنی نظر رحمت،نظر کرم و عنایت نہ فرمائے گا۔اس کی شرح پہلے ہوچکی۔
۳
؎یعنی میں خود تو نہیں لٹکاتا بلکہ تہبند خود ہی لٹک جاتا ہے شکم کسی قدر بھاری ہے اس لیے پیٹ سے سرک جاتا ہے نہ ارادہ ہے نہ غرور۔
۴
؎یعنی ہم نے تکبروغرور سے تہبند نیچا رکھنے سے ممانعت کی ہے تم کو غرور سے دور کا بھی تعلق نہیں اور پھر قصدًا لٹکاتے بھی نہیں لہذا تم اس حکم کی زد میں نہیں آتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4369