Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4337

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن سمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:البسوا الثياب البيض فإنها أطهر وأطيب وكفنوا فيها موتاكم. رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفید کپڑے پہنو وہ زیادہ پاکیزہ اور بہت ستھرے ہیں اور بہت پسندیدہ ہیں ۱؎اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دو ۲؎(احمد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اطیببنا ہےطیبسے اگرطیبخبیث کا مقابل ہو تو بمعنی حلال ہوتا ہے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"لَا یَسْتَوِی الْخَبِیۡثُ وَالطَّیِّبُ"ورنہ اس کے معنی ہوتے پسندیدہ شرعًایا عقلًا یا طبعًا یہاں اس ہی آخری معنی میں ہے یعنی سفید کپڑا پاکیزہ بھی ہے کہ ذرا سا دھبہ دور سے معلوم ہوجاتا ہے اور دھولیا جاتا ہے،رنگین کپڑے کے داغ دھبے نظر نہیں آتے،نیز رنگین کپڑے کے دھونے میں رنگ دھل جانے کا خطرہ ہوتا ہے سفید کپڑے میں یہ خطرہ نہیں،نیز سفید کپڑا اپنے پیدائشی رنگ پر ہے رنگین کپڑے کا رنگ عارضی۔اطیبکے معنی میں دل پسند،جتنا حسن و زیبائش سفید کپڑے میں ہے اتنا دوسرے میں نہیں۔وہ جو وارد ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھا یا سرخ جوڑا یعنی سرخ دھاری والا جوڑا پہنایا عورت کا کپڑا رنگین ہو وہ سب بیان جواز کے لیے ہے یہ فرمان عالی بیان استحباب کے لیے۔بعض طلباء صوفیاء رنگین کپڑے پہنتے ہیں وہ محض اس لیے کہ جلد جلد دھونا نہ پڑیں ورنہ مسلمان کے لیے سفید کپڑا بہت ہی بہتر ہے۔
۲
؎بعض لوگوں میں مشہور ہے کہ عورت کو رنگین کفن دو غلط ہے ہر مردہ کو سفید کفن دینا بہتر ہے کہ اب اس کی گفتگو اور ملاقات فرشتوں سے ہونے والی ہے تو اچھے کپڑوں میں ہونی چاہیے اچھے کپڑے سفید ہیں۔یہاں مرقات نے سفید رنگت پر بہت اعلیٰ گفتگو کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4337