Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4373

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: إِنْ عَلِيًّا اشْتَرٰى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهٗ قَالَ:«الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهٖ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهٖ عَوْرَتِي »ثُمَّ قَالَ:هٰكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن أبي مطر قال: إن عليا اشترى ثوبا بثلاثة دراهم فلما لبسه قال:«الحمد لله الذي رزقني من الرياش ما أتجمل به في الناس وأواري به عورتي »ثم قال:هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول. رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مطر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جناب علی نے ایک کپڑا تین درہم(بارہ آنہ)کا خریدا پھر جب اسے پہنا تو فرمایا اس الله کا شکر ہے جس نے مجھے زینت کے لباس میں سے وہ عطا فرمایا جس سے میں لوگوں میں زینت حاصل کروں۲؎اور اس سے اپنا ستر ڈھانپوں پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اسی طرح کہتے سنا ۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎ابو مطر تابعی ہیں مگر ان کا نام و حالات معلوم نہ ہوسکے۔تقریب میں فرمایا کہ آپ کی ملاقات حضرت علی سے ثابت نہیں لہذا یہ حدیث منقطع ہے یعنی درمیان سے ایک راوی چھوٹ گیا ہے،حجاج ابن ارطات نے کہا کہ آپ ثقہ ہیں۔
۲
؎ریشکے لغوی معنی ہیں چڑیا کے،چونکہ پر اس کے لیے زینت ہیں اس لیے اب بمعنی زینت آتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے: "یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ"یہ ہے امیر المؤمنین علی رضی الله عنہ کا شکر کہ صرف تین درہم یعنی بارہ تیرہ آنے کا معمولی لباس پہن کر ایسا شکریہ ادا کررہے ہیں۔
۳
؎اسی سنت پرعمل کرتے ہوئے میں بھی یہ کہتا ہوں مسلمان کو چاہیے کہ الله تعالٰی کی ہر نعمت پر شکریہ اداکرے اعلیٰ ہو یا معمولی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4373