Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4360

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ شَاكِيًا فَخَرَجَ يَتَوَكَّأُ عَلٰى أُسَامَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قِطْرٍ قَدْ تَوَشَّحَ بِهٖ فَصَلّٰى بِهِمْ. رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”.

وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان شاكيا فخرج يتوكأ على أسامة وعليه ثوب قطر قد توشح به فصلى بهم. رواه في “شرح السنة”.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیمار تھے ۱؎تو حضرت اسامہ پر تکیہ لگائے تشریف لائے آپ پر قطری کپڑا تھا ۲؎جس سے آپ لپٹے ہوئے تھے۳؎پھر انہیں نماز پڑھائی ۴؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا مرض وفات مراد ہے جس میں حضور انور کا وصال شریف ہوگیا۔
۲
؎قطری یمنی اعلیٰ درجہ کا کپڑا ہوتا ہے جو سوتی ہوتا ہے مائل بہ سرخی،حاشیہ پر اعلی درجہ کا کام ہوتا ہے۔قطر ایک بستی کانام ہے یمن یا بحرین میں وہاں کا تیارکردہ ہوتاہے جیسے ہمارے ہاں ڈھاکہ کی ململ۔
۳
؎جیسے محرم احرام کی چادر میں لپٹا ہوتا ہے کہ چادرکے دونوں کنارے کندھوں پرپڑے تھے۔توشحبنا ہےوشاحسے بمعنی کنگن،چونکہ کنگن کلائی سے لپٹ جاتا ہے اس لیے کپڑے میں لپیٹنے کوتوشحکہتے ہیں۔
۴
؎حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ آخری نماز پڑھائی تھی۔اس کا تفصیلی بیانان شاءاللهوفات النبی صلی الله علیہ وسلم کے بیان میں آئے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4360