Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4351

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فَرَأٰى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهٗ فَقَالَ: «مَا كَانَ يَجِدُ هٰذَا مَا يُسَكِّنُ بِهٖ رَأْسَهٗ؟» وَرَأٰى رَجُلًا عَلَيْهِ ثيابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ: «مَا كَانَ يَجِدُ هٰذَا مَا يَغْسِلُ بِهٖ ثَوْبَهٗ؟» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ

وعن جابر قال: أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم زائرا فرأى رجلا شعثا قد تفرق شعره فقال: «ما كان يجد هذا ما يسكن به رأسه؟» ورأى رجلا عليه ثياب وسخة فقال: «ما كان يجد هذا ما يغسل به ثوبه؟» . رواه أحمد والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے تشریف لائے ۱؎تو ایک شخص کو پراگندہ بال دیکھا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۲؎تو فرمایا کہ یہ شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے اپنے سر کو جمع کرے۳؎اور ایک شخص کودیکھا جس پر میلے کپڑے تھے تو فرمایا یہ شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے اپنے کپڑے دھولے۴؎(احمد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غلاموں خادموں سے ملاقات کے لیے انکے گھروں پر کبھی تشریف لے جاتے تھے اس میں ان کی عزت افزائی ہوتی تھی۔زائرفرماکر یہ بتایا کہ یہ تشریف کسی کی بیمار پرسی یا شادی وغیرہ کی تقریب کے سلسلہ میں نہ تھی صرف ہم کو نوازنے کے لیے تھی۔
۲
؎یا ہمارے گھر میں یا راستہ میں ایسے شخص کو دیکھا۔
۳
؎یعنی کہا اس کے پاس تولہ دو تولہ تیل بھی نہیں کہ بالوں میں لگاکر کنگھی کرے جس سے اس کے بال بکھریں نہیں بلکہ مجتمع ہوجائیں۔
۴
؎یعنی کیا اسے تھوڑا سا صابن میسر نہیں جس سے کپڑے صاف کرے۔خیال رہے کہ عزت اور تکبر میں فرق ہے تکبر کے لیے اچھا لباس پہننا ممنوع ہے اس کے لیے ارشاد ہواالبذاذۃ من الایماناورعورت کے لیے اعلیٰ لباس پہننا اچھا ہے جس کے متعلق یہاں یہ ارشاد ہوا لہذا دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4351