Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4342

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهٖ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً ثُمَّ يَقُولُ «اللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا كَسَوْتَنِيهِ أَسأَلُكَ خَيْرَهُٗ وَخَيْرَمَا صُنِعَ لَهٗ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ

وعن أبي سعيد الخدري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استجد ثوبا سماه باسمه عمامة أو قميصا أو رداء ثم يقول «اللهم لك الحمد كما كسوتنيه أسألك خيره وخيرما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» . رواه الترمذي وأبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا پاتے تو اس کا نام رکھتے عمامہ یا قمیض ۱؎یا چادر پھر کہتے الٰہی تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ پہنایا ویسے ہی میں اس کپڑے کی خیر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۲؎(ترمذی، ابوداؤد)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور حتی الامکان نیا کپڑا جمعہ کو پہنتے تھے اور نیا کپڑا پہن کر پرانا خیرات فرمادیتے تھے۔(مرقات)پھر پہلے اس کا نام معین فرماتے کہ یہ چادر اوڑھتا ہوں یا قمیض پہنتا ہوں یا تہبند پھراسے زیب تن فرماتے،ان کی ہر ہر ادا پر کروڑوں درود۔
۲
؎کپڑے کی خیر یہ ہے کہ کپڑا پہن کر نیک اعمال کی توفیق ملے اور کپڑے کی شر یہ ہے کہ کپڑے پہن کر گناہ کرے،کپڑے پہن کر نماز پڑھنا خیر ہے اور کپڑے پہن کر چوری کرنا اس کی شر ہے اور بندہ اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے خیرکرسکتا ہے شر سے بچ سکتا ہے،نیز کپڑا پہن کر حمدوشکر کرنا کپڑے کی خیر ہے اس پر فخرکرنا اس کپڑے کی شر۔
۳
؎یہ حدیث احمد،نسائی،ابن حبان نے اور حاکم نے مستدرک میں ان ہی راوی سے روایت کی۔شرح سنہ بروایت حضرت ابن عمر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو سفید قمیض پہنے دیکھا تو فرمایا کہ نئی ہے یا دھلی ہوئی عرض کیا نئی،فرمایاالبس جدیدا عش حمیدًا ومت شھیدایعنی نیا لباس پہنو اچھے جیو شہید مرو رضی اللہ عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4342