Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4331

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلٰى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِكَ فَفِي النَّارِ قَالَ ذٰلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا يَنْظُرُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلٰى مَنْ جَرَّ إِزَارَهٗ بَطَرًا . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي سعيد الخدري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه لا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين ما أسفل من ذلك ففي النار قال ذلك ثلاث مرات ولا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا . رواه أبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کے تہبند اس کے آدھی پنڈلیوں تک ہوں ۱؎اس پر پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں گناہ نہیں ۲؎جو اس سے زیادہ نیچا ہوگا وہ آگ میں ہوگا ۳؎یہ تین بار فرمایا اور اللہ تعالٰی اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے گا جو اپنا تہبند فخرًا زیادہ نیچا رکھے (گھسیٹے)۴؎(ابو دا ؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎ازرہالف کے کسرہ سے ز کے جزم سے یعنی تہبند باندھنے کی حالت و ہیئت جیسے جلسہ بیٹھنے کی ہیئت و کیفیت۔(اشعہ و مرقات) یعنی مسلمانوں کے ازاروتہبند باندھنے کی کیفیت یہ چاہیے کہ وہ نصف پنڈلی تک رہے،نصف سے مراد تقریبًا آدھا ہے نہ کہ حقیقی آدھا لہذا کچھ اونچے نیچے ہونے میں حرج نہیں،یہ حد مردوں کے لیے ہے۔عورتوں کے تہبند یا پاجامے ٹخنوں کے نیچے تک ہونے چاہئیں کیونکہ ان کی پنڈلی ستر میں داخل ہے جس کا چھپانا فرض ہے۔عورتیں گھر میں رہتی ہیں گندی گلیوں سڑکوں میں انہیں چلنا پھرنا نہیں پڑتا ان کے لیے پاجامہ نیچا ہونا مضر نہیں،مردوں کو باہر چلنا پھرنا پڑتا ہے ان کے نیچے پانچے نجس ہوجائیں گے اس لیے بھی یہ فرق کیا گیا۔
۲
؎یعنی مرد ٹخنوں تک پائجامہ اور تہبند رکھ سکتے ہیں اس طرح کہ ٹخنے کھلے ہوں۔
۳
؎اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اس حد سے نیچا تہبند مع پا ؤں کے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جب پا ؤں دوزخ میں گیا تو پاؤں والا بھی وہاں ہی گیا۔وجہ ظاہر ہے کہ یہ عمل متکبرین اور فیشن ا یبل لوگوں کا ہے،نیز ایسے تہبند اکثر نجس رہتے ہیں،راستہ کی گندگی ان کے نچلے کنارہ میں لگ جاتی ہے جس سے نماز درست نہیں ہوتی،اکثر ایسے تہبند میں الجھ کر گر جاتے ہیں خصوصًا زینہ پر چڑھتے اترتے۔
۴
؎فخر کی قید سے معلوم ہوا کہ یہ سزائیں اس صورت میں ہیں جب کہ فیشن یا تکبر کے طور پر ہو،اگر کوئی شخص بے خیالی میں ایساکر بیٹھے تو یہ حکم نہیں،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تہبند شریف کبھی بے خیالی میں نیچا ہوجاتا تھا۔۱∞؎انصاف جمع فرماکر اشارۃً بتایا گیا کہ حقیقی آدھا ضروری نہیں قریبی آدھی پنڈلی تک ہونی چاہیے جیسے کہا جاتا ہے اوائل کتاب یا اواخر کتاب۔اگر حقیقی آدھی پنڈلی مراد ہوتی تونصف الساقفرمایا جاتا کہ پنڈلی کا نصف ایک ہی ہوتا ہے نہ کہ چند۔(اشعہ)
۲
؎یعنی آدھی پنڈلی تک تہبند ہونا بہتر ہے ٹخنوں تک ہونا جائز،آج کل آدھی پنڈلی تک تہبند،منڈا ہوا سر بہت لمبی داڑھی وہابیوں کی نشانی ہے اس لیے ٹخنہ کے اوپر تہبند رکھے یعنی اس جائز کام پر عمل کرے سر نہ منڈائے، داڑھی صرف ایک مشت رکھے زیادہ بھی نہ رکھے تاکہ ان کی مشابہت سے بچےمن تشبہ بقوم فھو منھم۔۳؎اسکی شرح ابھی گزری کہ صرف نیچا تہبند ہی دوزخ میں نہ جائے گا بلکہ اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ لے جائے گا۔۴؎یہ پوری حدیث تین بار فرمائی یا صرف یہ آخری کلمہما اسفلالخ تین بار فرمایا۔
۵
؎اس فرمان عالی نے ساری حدیث کو مقید کردیا یعنی فخریہ طور پر یا فیشن یا یہودونصاری کی نقل کے لیے نیچے پائجامے پہننا دوزخ کا ذریعہ ہے۔اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ فیشن یا شیخی کے لیے نیچے پائجامہ پہننا مکروہ تحریمی ہے اس کے بغیر مکروہ تنزیہی یا خلاف مستحب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4331