Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4325

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَكْرٍ: أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً طَيَالِسَةً كِسْرَوَانِيَّةً لَهَا لِبْنَةُ ديباجٍ وفُرجَيْهَا مَكْفَوْفَيْنِ بِالدِّيْبَاجِ وَقَالَتْ: هٰذِه جُبَّةُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضٰى نَسْتَشْفِيْ بِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أسماء بنت أبي بكر: أنها أخرجت جبة طيالسة كسروانية لها لبنة ديباج وفرجيها مكفوفين بالديباج وقالت: هذه جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت عند عائشة فلما قبضت قبضتها وكان النبي صلى الله عليه وسلم يلبسها فنحن نغسلها للمرضى نستشفي بها. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق سے کہ انہوں نے ایک طیالسی کسروانیہ جبہ نکالا ۱؎جس کا گریبان ریشم کا تھا اور اس کے دونوں دامن ریشم سے سلے ہوئے تھے ۲؎اور بولیں یہ جبہ ہے رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کا ۳؎یہ جناب عائشہ کے پاس تھا جب وہ وفات پا گئیں تو اسے میں نے لے لیا ۴؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنا کرتے تھے اب ہم اسے بیماروں کے لیے دھوتے ہیں ۵؎اس سے شفاء حاصل کرتے ہیں ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎طیالسہجمع ہےطیلسانکی بمعنی چادر،یہ لفظ فارسی میں تالسان تھا عربی میںطیلسانکیا گیا،بعض نے کہا کہ جمعطیسکی ہے،کسروانی منوی ہے کسریٰ کی طرف جو خسرو کا معرب ہے۔خسرو فارسی میں بادشاہ کو کہتے ہیں یہ کپڑا خالص اونی ہوتاہے۔
۲
؎یعنی اس جبہ شریف کے گریبان میں ریشم کی پٹی تھی اور اس کے اگلے پچھلے دونوں دامنوں میں ریشمی کپڑے کے ٹکڑے لگے تھے،چونکہ یہ ریشم چار انگل سے زائد نہ تھا لہذا حلال تھا۔یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ کنارہ و حاشیہ کوکفہکہتے ہیں،لمبائی میں ہو توکفہکاف ضمہ سے اور اگر گولائی میں ہو توکفہکاف کے کسرہ سے ترازو کے پلڑے کوکفہکو مکسر کاف کہا جاتا ہے۔
۳
؎جسے حضور حیات شریف میں پہنا کرتے تھے لوگ اس کی زیارت کرنے آتے تھے آپ یہ فرما کر زیارت کراتی تھیں۔معلوم ہوا کہ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم کے لباس کی زیارت کرانا سنت صحابہ ہے جیسے آج بال شریف کی زیارت کرائی جاتی ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۴
؎حضور انور نے یہ جبہ جناب عائشہ صدیقہ کو اپنی زندگی شریف میں ہبہ فرمادیا تھا،حضرت اسماء نے یہ جبہ حضرت عائشہ صدیقہ کی میراث میں لیا کیونکہ آپ ہی ان کی وارث تھیں کیونکہ عائشہ صدیقہ کی حیات شریف میں ابوبکر صدیق کی ساری اولاد وفات پاچکی تھی سواء حضرت اسماء کے اس لیے آپ نے ہی بہن ہونے کی وجہ سے بطور میراث یہ جبہ لیا۔(اشعہ و مرقات)
۵
؎یعنی یہ جبہ دھوکر تبرک کے لیے پیتے پلاتے ہیں۔
۶
؎اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم کے قمیض کے غسالہ دھوون سے بیماروں کو شفا حاصل کرتے تھے کہ اسے وہ پانی پلاتے تھے اس سے چھینٹا دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ ہم اسے دھوتے تھے برکت کے طور پر پینے کے لیے اور اس قمیض کو باندھ کر دکھا کر سینہ پر رکھ کر بیماروں کی شفا حاصل کرتے تھے یعنی شفاء حاصل کرنا کئی طریق سے تھا۔ (مرقات)جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میری قمیض والد کے چہرے پر لگادو وہ انکھیارے ہوجائیں گے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کی زیارت کرنا ان کا لباس دھوکر بیماروں کو پلانا سنت صحابہ ہے ان میں شفا ہے۔آبِ زمزم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے پیدا ہوا تمام بیماریوں کی شفاء ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا گیا:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"اپنا پاؤں رگڑو اس سے پانی کے چشمے پیدا ہوں گے اس کا پینا نہانا شفاء ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اس جبہ شریف کو سر پر رکھنا،آنکھوں سے لگانا،ہونٹوں سے چومنا اس پر ہاتھ پھیرنا شفاء ہے۔(مرقات)یہ معلوم ہوا کہ جبہ پہننا بھی سنت ہے اور گریبان یا چولی اگر ریشم کی ہو تو چار انگل تک جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4325