Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4372

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلْتْ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَقَالَ:«يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَنْ يَصْلُحَ أَنْ يُرٰى مِنْهَا إِلَّا هٰذَا وَهٰذَا» . وَأَشَارَ إِلٰى وَجْهِهٖ وَكَفَّيْهِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشة أن أسماء بنت أبي بكر دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليها ثياب رقاق فأعرض عنه وقال:«يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لن يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا» . وأشار إلى وجهه وكفيه. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ جناب اسماء بنت ابوبکر صدیق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۱؎ان پر باریک کپڑے تھے۲؎حضور نے ان سے منہ پھیرلیا ۳؎اور فرمایا اے اسماء عورت جب بلوغ کو پہنچ جائے ۴؎تو جائز نہیں کہ اس کا کوئی حصہ دیکھا جائے سوائے اس کے اور اس کے اور اشارہ فرمایا اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف ۵؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت اسماء حضور صلی الله علیہ وسلم کی سالی ہیں یعنی عائشہ صدیقہ کی بہن،حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی صاحبزادی ہیں،یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔(مرقات)
۲
؎ان کی قمیض بھی باریک کپڑے کی تھی جس سے بازو وغیرہ نظر آتے تھے اور دوپٹہ بھی باریک تھا جس سے سر کے بال چمک رہے تھے۔معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں بھی باریک کپڑے ایجاد ہوچکے تھے اب تو بہت ہی برا حال ہے۔
۳
؎یہ منہ پھیر لینا یاتو اظہار ناراضی کے لیے تھا یا نگاہ پاک کی حفاظت کے لیے،حضور صلی الله علیہ وسلم نزول احکام سے پہلے بھی احکام پر عامل تھے۔
۴
؎اس طرح کہ قریب بلوغ ہوجائے مراہقہ،مراہقہ ہونے کی عمر یں مختلف ہیں۔تندرست لڑکیاں جلد اور کمزور لڑکیاں دیر سے اس حد کو پہنچتی ہیں اس لیے لڑکی کے بلوغ کی عمر نو برس سے پندرہ برس تک کی عمر ہے اور لڑکے کے لیے بارہ برس سے پندرہ برس تک،جیسی تندرستی و صحت ویسے ہی بلوغ۔خیال رہے کہمحیضکے معنی ہیں حیض مگر اس سے مراد ہے بلوغ کیونکہ لڑکی کا بلوغ اکثر اس سے ظاہر ہوتا ہے اگرچہ زیر ناف بال اور حمل بھی بلوغ کی علامت ہے،پستان کا ابھار اس کی خاص علامت نہیں۔
۵
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اگر باریک کپڑے میں سے جسم نظر آرہا ہو تو وہ ننگے جسم کے حکم میں ہے اس کو پہن کر نماز نہ ہوگی۔دوسرے یہ کہ عورت کے ہاتھ کلائیوں تک اور چہرہ ستر نہیں مگر اب اجنبی کو اس کا دیکھنا حرام ہے،یہ فرمان عالی پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4372