Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4374

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمامةَ قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهٖ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهٖ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهٖ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهٖ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهٖ كَانَ فِي كَنَفِ اللّٰهِ وَفِي حِفْظِ اللّٰهِ وَفِي سِتْرِ اللّٰهِ حَيًّا وَمَيِّتًا ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

وعن أبي أمامة قال: لبس عمر بن الخطاب رضي الله عنه ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من لبس ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي ثم عمد إلى الثوب الذي أخلق فتصدق به كان في كنف الله وفي حفظ الله وفي ستر الله حيا وميتا ". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی الله عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو فرمایا شکر ہے اس الله کا جس نے مجھے وہ پہنایا جس سے میں اپنا ستر ڈھانپوں اور اس سے اپنی زندگی میں زینت حاصل کروں پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی نیا لباس پہنے پھر کہے شکر ہے اس الله کا جس نے مجھے وہ پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۲؎پھر پرانے کپڑے کی طرف توجہ کرے اسے خیرات دے ۳؎تو وہ الله کی پناہ اور الله کی حفاظت اور الله کی پردہ پوشی میں ہوگا جیتے مرتے ۴؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سعد ابن حنیف ہے،انصاری اوسی ہیں،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے اس لیے آپ کو تابعین میں سے مانا گیا۔ ۱۰۰ھ؁∞ میں وفات پائی،بانوے سال عمر پائی مدینہ منورہ کے علماء سے تھے رضی الله عنہ۔
۲
؎یعنی لباس میں بہت سی خوبیاں ہیں ستر پوشی،زینت،سردی گرمی سے بچا ؤ،نماز کی ادائیگی لہذا یہ عظیم الشان نعمتوں سے ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ نیا کپڑا،نیا جوتا،نئی ٹوپی۔غرضکہ نیا لباس ملنے پر پرانا خیرات کردینا بہت ہی ثواب کا باعث ہے،پرانی چیز کو یوں پھینک کر برباد نہ کر دے کسی غریب کو دیدے اس کے کام آجائے گی مگر ہمیشہ پرانی ہی چیز خیرات نہ کرے کبھی نئی اور دل پسند چیزبھی خیرا ت کرے"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ"اور پرانا کپڑا ہمیشہ خیرات ہی نہ کردے کبھی خود بھی پہنے لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت مذکورہ کے خلاف ہے اور نہ اس حدیث عائشہ صدیقہ کے،بغیر پیوند لگے کپڑے کو پرانا نہ سمجھو کہ یہاں سخاوت کی تعلیم ہے وہاں تواضع کی۔
۴
؎سبحان الله!یہ رب تعالٰی کا کرم و بندہ نوازی ہے کہ ہم معمولی پھٹے پرانے کپڑے خیرات کریں اور وہ اس کی ایسی بہترین جزائیں عطا فرمائے۔جب پھٹے پرانے کپڑوں کی خیرات پر یہ ثواب ہے تو نئے کپڑوں کی خیرات پرکتنا ثواب ہوگا۔جیتے مرتے پردہ پوشی کے معنی یہ ہیں کہ الله تعالٰی اسے زندگی میں اور بعد موت رسوا نہ ہونے دے گا،اس کے عیب چھپا بھی لے گا بخش بھی دے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4374