Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4376

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: دَخَلَتُ عَلٰى عَائِشَةَ وَعَلَيْهَا دِرْعٌ قِطْرِيٌّ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ فَقَالَتْ: ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلٰى جَارِيَتِي انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تُزْهٰى أَنْ تَلْبَسَهٗ فِي الْبَيْتِ وَقَدْ كَانَ لِيْ مِنْهَا دِرْعٌ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيْرُهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عبد الواحد بن أيمن عن أبيه قال: دخلت على عائشة وعليها درع قطري ثمن خمسة دراهم فقالت: ارفع بصرك إلى جاريتي انظر إليها فإنها تزهى أن تلبسه في البيت وقد كان لي منها درع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فما كانت امرأة تقين بالمدينة إلا أرسلت إلي تستعيره. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالواحد ابن ایمن سے ۱؎وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ میں جناب عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان پر قطری قمیض تھی پانچ درہم والی۲؎آپ بولیں تم اپنی نظر اس میری لڑکی کی طرف تو اٹھا ؤ اسے دیکھو کہ یہ اس کو گھر میں پہننے سے نفرت کرتی ہے۳؎اور اس کپڑے کی ایک قمیض میرے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ پاک میں تھی تو مدینہ میں کوئی لڑکی دلہن نہ بنائی جاتی تھی مگر وہ میرے پاس بھیج کر مجھ سے منگالیتی تھی۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین سے ہیں،آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے،قاسم ابن عبدالواحد کے والد ہیں،قبیلہ بنی مخزوم سے ہیں،آپ نے بہت تابعین سے روایات لیں،آپ کے والد ایمن بھی تابعی ہیں،ابن ابی عمرو کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
۲
؎پہلے عرض کیا گیا کہ قطری مصری کپڑے کا نام تھا۔
۳
؎یعنی یہ لڑکی لونڈی ہونے کے باوجود اسے گھر میں نہیں پہنتی اس سے نفرت کرتی ہے اس میں اپنی ذلت سمجھتی ہے ۔
۴
؎یعنی زمانہ اس قدر بدل چکا کہ چند سال پہلے یہ کپڑا نئی دلہنوں کو رخصت کرتے وقت پہنایا جاتا تھا اور اب لونڈیاں روزانہ کے کام کاج کے وقت بھی اسے گھر میں نہیں پہنتیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دلہن کے لیے کپڑے عاریۃً مانگ لینا جائز ہے۔ بخاری،احمد،نسائی نے حضرت انس سے مرفوعًا روایت فرمایا کہ ہر اگلا دن پچھلے دن سے اور اگلا سال پچھلے سال سے بدتر آوے گا،اس کی وجہ ظاہر ہے کہ زمانہ کو جس قدر نور نبوت سے دوری ہوگی اسی قدر تکلف بڑھیں گے نورانیت گھٹے گی۔(مرقات) الله تعالٰی حسن خاتمہ نصیب فرماوے،دنیاوی تکلفات سے بچائے۔جب اس زمانہ میں ہی اس قدر فرق ہوچکا تھا تو اب اس زمانہ کا کیا پوچھنا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4376