Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4371

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « عَلَيْكُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّهَا سِيمَاءُ الْمَلَائِكَةِ، وَأَرْخُوهَا خَلْفَ ظُهُورِكُمْ » . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « عليكم بالعمائم فإنها سيماء الملائكة، وأرخوها خلف ظهوركم » . رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم عمامے اختیارکرو ۱؎کیونکہ یہ فرشتوں کی علامت ہے ۲؎اور انہیں اپنی پیٹھوں کے پیچھے لٹکاؤ ۳؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎ہمیشہ یا نماز کے وقت عمامہ باندھا کرو۔عمامہ کے ساتھ ایک نماز بغیر عمامہ کی ستر نمازوں سے افضل ہے مگر عمامہ سنت کے مطابق چاہیے کہ ٹوپی پر باندھا جائے مع شملہ کے ہو،عام دنوں میں سات ہاتھ ہو جو جمعہ کی نماز میں بارہ ہاتھ،شملہ آدھی پیٹھ تک ہو سفید ہو یا سیاہ مگر سرخ رنگ کا نہ ہو۔عمامہ کے تفصیلی مسائل عالمگیری وغیرہ میں ملاحظہ کرو۔
۲
؎یا تو فرشتے رحمت کے نوری عمامہ باندھتے ہیں جو ان کی شان کے لائق ہے یا جب شکل انسانی میں آتے ہیں تو عمامہ باندھ کر آتے ہیں۔چنانچہ بدر میں جب غازیوں کی امداد کے لیے آئے تو عمامہ باندھتے تھے،قرآن کریم فرماتاہے:"یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمۡ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ"۔ان کی نشانیاں عمامے تھے،ان کے رنگ زرد تھے،شملے کندھوں پر پڑے تھے۔ (مرقات)
۳
؎حضور صلی الله علیہ وسلم شملہ پشت کے پیچھے لٹکاتے تھے کبھی داہنی جانب سینہ پربھی ہوتا تھا،دونوں طریقے سنت ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4371