Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4348

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: تَوَاضُعًا كَسَاهُ اللّٰهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ وَمَنْ تَزَوَّجَ لِلّٰهِ تَوَجَّهُ اللّٰهُ تَاجَ الْمُلْكِ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن سويد بن وهب عن رجل من أبناء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ترك لبس ثوب جمال، وهو يقدر عليه وفي رواية: تواضعا كساه الله حلة الكرامة ومن تزوج لله توجه الله تاج الملك ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سوید ابن وہب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بیٹوں میں سے ایک صاحب سے ۱؎راوی وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جمال کا لباس پہننا چھوڑ دے حالانکہ وہ اس پر قادر ہو اور ایک روایت میں ہے کہ انکسار کے طور پر تو اللہ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا ۲؎اور جو اللہ کے لیے نکاح کرے تو اللہ اسے بادشاہی تاج پہنائے گا ۳؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ وہ بیٹے بھی صحابی ہیں یا تقویٰ و طہارت سے موصوف ہیں ورنہ یہ حدیث مجہول ہوگی کیونکہ سوید ابن وہب تابعی بھی صحابی کا ذکر نہیں کرتے،صحابی کا نام مذکور نہ ہوکوئی حرج نہیں کہ صحابہ سارے ثقہ ہیں۔
۲
؎یعنی جوبخل کی وجہ سے نہیں بلکہ عجز و انکسار کے لیے قدرت کے باوجود معمولی لباس پہنے اس کایہ درجہ ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ اللہ کی نعمت کا اثر تم پر دیکھا جاتا ہے۔
۳
؎جس تاج کے ایک ایک موتی میں ایسی چمک ہوگی جیسے سورج کی چمک اگر وہ تمہارے گھر کے اندر ہوتا جیسا کہ دوسری احادیث میں ہے۔(از مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4348