Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4375

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهٖ قَالَتْ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَلٰى عَائِشَةَ وَعَلَيْهَا خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خِمَارًا كَثِيفًا. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن علقمة بن أبي علقمة عن أمه قالت: دخلت حفصة بنت عبد الرحمن على عائشة وعليها خمار رقيق فشقته عائشة وكستها خمارا كثيفا. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علقمہ ابن ابی علقمہ سے ۱؎وہ اپنی والدہ سے روایت فرماتی ہیں کہ حفصہ بنت عبدالرحمن ۲؎حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں حالانکہ ان پر باریک دوپٹہ تھا تو حضرت عائشہ نے اسے پھاڑ دیا۳؎اور انہیں موٹا دوپٹہ اوڑھا دیا ۴؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یہ علقمہ ابن قیس نہیں جوکہ حضرت عبدالله ابن مسعودکے خاص ساتھیوں میں سے ہیں بلکہ علقمہ ابن ابوعلقمہ ہیں،ان کے باپ کا نام بلال ہے،حضرت عائشہ صدیقہ کے آزاد کردہ غلام،کنیت ابوعلقمہ،آپ خود بھی تابعی ہیں اور ان کے والد ابو علقمہ بھی تابعی،ان کی ماں کا نام معلوم نہ ہوسکا۔
۲
؎یہ عبدالرحمن ابن ابوبکر صدیق ہیں اور یہ حفصہ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی بھتیجی ہیں اور منذر ابن زبیر ابن عوام کی بیوی ۔
۳
؎یعنی اس دوپٹہ کو پھاڑکر دو رومال بنادیئے تاکہ اوڑھنے کے قابل نہ رہے رومال کے کام آوے لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ آپ نے یہ مال ضائع کیوں فرمادیا۔
۴
؎یہ ہے عملی تبلیغ اور بچیوں کی صحیح تربیت و تعلیم۔اس دوپٹہ سے سر کے بال چمک رہے تھے ستر حاصل نہ تھا اس لیے یہ عمل فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4375