Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4315

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهٖ أَو يَمْشِيْ فِيْ نَعْلٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَّشْتَمِلَ الصَّمَاءَ أَوْ يَجْتَبِيْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يأكل الرجل بشماله أو يمشي في نعل واحد وأن يشتمل الصماء أو يجتبي في ثوب واحد كاشفا عن فرجه . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے ۱؎یا ایک جوتہ میں چلے ۲؎اور اس سے کہ کپڑے میں لپٹ جائے ۳؎یا ایک کپڑے میں اوکڑوں بیٹھے اپنی شرمگاہ کھولے ہوئے ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎بلا مجبوری بائیں ہاتھ سے کھانا پینا مکروہ تنزیہی ہے،بعض علماء کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے کہ اس سے سخت ممانعت ہے۔
۲
؎ایک پاؤں میں جوتا ہو ایک پاؤں ننگا اس طرح چلنا مکروہ تنزیہی ہے،عذر سے ہو تو ممنوع نہیں ایسے چلنا پھرنا وقار کے بھی خلاف ہے اور اس طرح چلنے میں کچھ دشواری بھی ہوتی ہے کہ جوتا والا پاؤں اونچا ہوتا ہے ننگا پاؤں نیچا،بہرحال اس ممانعت میں بڑی حکمتیں ہیں۔
۳
؎اشتمال صماءیہ ہے کہ ایک چادر جسم پر اس طرح لپیٹ لے کہ جسم سارا بندھ جائے ایک ہاتھ بھی کھلا ہوا نہ رہے کہ یہ مغلول کی طرح ہوجاتا ہے یہ بھی مکروہ تنزیہی ہے۔
۴
؎احتباءکی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تہبند صرف چادر اوڑھے ہو اور اوکڑوں بیٹھے تکیہ لگا کر اس طرح کہ شرمگاہ کھل جائے کہ اس میں بے پردگی ہے اس لیےکاشفا عن فرجہکی قید لگائی گئی،اگر ستر نہ کھلے تو حرج نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4315