Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4327

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّى ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ فَقَالَ: إِنَّ هٰذِهٖ مِنْ ثِيَابِ الْكفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهُمَاوَفِي رِوَايَةٍ: قُلْتُ: أَغْسِلْهُمَا؟ قَالَ: بَلْ اَحْرِقْهُمَا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ سَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَائِشَةَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ فِي «بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ثوبين معصفرين فقال: إن هذه من ثياب الكفار فلا تلبسهماوفي رواية: قلت: أغسلهما؟ قال: بل احرقهما . رواه مسلم و سنذكر حديث عائشة: خرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات غداة في «باب مناقب أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے مجھ پر دو کسومی رنگے کپڑے دیکھے ۱؎تو فرمایا کہ یہ کفار کے لباس میں سے ہیں تم انہیں نہ پہنو ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا کہ میں انہیں دھو دوں فرمایا بلکہ انہیں جلادو ۳؎(مسلم)
ہم حضرت عائشہ کی حدیث کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کو تشریف لائے اب مناقب اہلِ بیت النبی صلی ا للہ علیہ وسلم میں ذکر کریں گے
۴
؎

شرح حدیث

۱∞؎کسم ایک پھل ہوتا ہے جو سرخ رنگ دیتا ہے اور خالص سرخ رنگ مرد کے لئے ممنوع ہے عورتوں کے لیے جائز ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اگر بنا ہوا کپڑا سرخ رنگ لیا جائے تو ممنوع ہے اور اگر سرخ سوت سے بنا جائے تو جائز ہے،بعض کے نزدیک مطلقًا ممنوع ہے،یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جویہ تفصیل کرتے ہیں،اس کی تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔
۲
؎یعنی کفار حرام و حلال لباس میں یوں ہی مردانہ زنانہ لباس میں فرق نہیں کرتے جیسا کپڑا چاہتے ہیں پہن لیتے ہیں۔چنانچہ سرخ کپڑا عورتوں کا لباس ہے مگر ان کے مرد بھی پہنتے پھرتے ہیں تم ایسا نہ کرو تم مردانہ زنانہ جوڑے میں فرق کرو۔ (ازمرقات)معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو کفار کے لباس سے اور مردوں کو عورتوں کے لباس سے بچنا چاہیے۔۳∞؎یعنی چونکہ اس کا رنگ پکا ہے اور اس میں خوشبو بھی ہے اس لیے دھونے سے نہ رنگ اترے گانہ بو جائے گی،نیز اگر رنگ و بو جاتی رہی تو اس میں مال ضائع کرنا ہے کہ رنگ قیمتی چیز ہے اسے دھوکر کیوں پھینکو لہذا اسے آگ میں ڈالو یعنی اپنے سے الگ کردو عورتوں کو دے دو وہ پہن لیں گی۔جلانے کا مطلب یہ ہی ہے جیسے اردو میں کہاجاتا ہے بھاڑ میں پھینکو۔چنانچہ حضرت یہ مقصد سمجھے نہیں،گھر آئے تنور جل رہا تھا یہ کپڑا اس میں ڈال دیا دوسرے دن حاضر ہوئے حضور نے پوچھا عبداللہ تم نے اس کپڑے کا کیا کیا عرض کیا تنور میں جلادیا،فرمایا اپنے گھر کی کسی عورت کو دے دیا ہوتا وہ پہن لیتی،عورتوں کے لیے سرخ لباس حلال ہے۔(مرقات)امام اعظم کے ہاں خالص سرخ کپڑا مرد کے لیے بہرحال مکروہ ہے خواہ سرخ سوت سے بنایا گیا ہو یا بننے کے بعد رنگا گیا ہو،یوں ہی زعفرانی رنگ کا پیلا کپڑا مرد کو مکروہ ہے۔(مرقات)اس حدیث کی اور بھی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہت قوی ہے۔
۴
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں ہی تھی چونکہ اس میں حضرات حسنین کریمین کے فضائل کا ذکر ہے کہ حضور انور نے ان دونوں کو اپنے مخطط کمبل میں لے لیا اس لیے ہم اسے مناقب اہل بیت میں ذکرکریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4327