Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4347

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من تشبه بقوم فهو منهم . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوکسی قوم سے مشابہت کرے گا تووہ ان ہی میں سے ہوگا ۱؎(احمد،ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جوشخص دنیا میں کفار،فاسق و بدکار کے سے لباس پہنے انکی سی شکل بنائے کل قیامت میں ان کے ساتھ اٹھے گا اور جو متقی مسلمانوں کی سی شکل بنائے انکا لباس پہنے وہ کل قیامت میںان شاءاللهمتقیوں کے زمرہ میں اٹھے گا۔خیال رہے کہ کسی کی سی صورت بناناتشبہہے اور کسی کی سی سیرت اختیارکرناتخلقہے یاتشبہفرمایا گیا ہے۔
حکایت: غرق فرعون کے دن سارے فرعونی ڈوب گئے مگر فرعونیوں کا بہروپیا بچ گیا،موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی مولیٰ یہ کیوں بچ گیا،فرمایا اس نے تمہارا روپ بھرا ہواتھا ہم محبوب کی صورت والے کو بھی عذاب نہیں دیتے۔(مرقات) مسلمان کو چاہیے کہ نماز و روزہ وغیرہ عبادات میں بھی اچھوں خصوصًا اچھوں سے اچھے یعنی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنے کی نیت کرے،دل لگے یانہ لگے شکل تو حضور کی سی بن جاتی ہے۔یہاں
من تشبہہےمن تخلقنہیں۔ان شاءاللهاصل کی برکت سے خدا ہم نقالوں کو بھی بخش دے گا۔
مسئلہ: جو ہیئت جو لباس کفار کی مذہبی علامت ہے وہ مسلمان کے لیے کفر ہے جیسے پیشانی پر قشقہ لگانا یا سر پر چوٹی رکھنا یا کان میں جنیئو باندھنا یا گلے میں عیسائیوں کی سی صلیب ڈالنا۔اور جو ہیئت و لباس کفار کی قومی علامت ہے وہ مسلمانوں کے لیے حرام ہے جیسے ہندوانی دھوتی یا عیسائیوں کا ہیٹ و نیکر اس حدیث کا یہ ہی مطلب ہے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر جہاد میں کوئی مسلمان جو کفار کی سی شکل و صورت رکھتا ہو دھوکہ سے مسلمان غازیوں کے ہاتھوں مارا جائے تو یہ غازی گنہگار نہیں وہ مرنے والا اپنی اس حرکت کی وجہ سے انہیں میں شمار ہوگا غرضیکہ یہ حدیث بہت جامع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4347