Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4377

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَبِسَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءَ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهٗ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهٗ فَأَرْسَلَ بِهٖ إِلٰى عُمَرَ فَقِيلَ: قَدْ أَوْشَكَ مَا انْتَزَعْتَهٗ يَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نَهَانِيْ عَنْهُ جِبْرِيْلُ فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهٗ تَلْبَسُهٗ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهٗ تَبِيْعُهُ . فَبَاعَهٗ بِأَلْفَيْ دِرْهَمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: لبس رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما قباء ديباج أهدي له ثم أوشك أن نزعه فأرسل به إلى عمر فقيل: قد أوشك ما انتزعته يا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: نهاني عنه جبريل فجاء عمر يبكي فقال: يا رسول الله كرهت أمرا وأعطيتنيه فما لي؟ فقال: إني لم أعطكه تلبسه إنما أعطيتكه تبيعه . فباعه بألفي درهم. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیۃً پیش کی گئی تھی ۱؎پھر جلد ہی اسے اتار دیا پھر وہ جناب عمر کے پاس بھیج دی کہا گیا یارسول الله کس قدر جلد حضور نے اتار دیا تو فرمایا کہ مجھے اس سے جبریل نے منع کردیا ۲؎تب حضرت عمر روتے ہوئے حاضر ہوئے عرض کی یارسول الله ایک چیز حضور نے ناپسند کی اور مجھے عطا فرمائی ۳؎تو میرا کیا حال ہے فرمایا ہم نے تم کو اس لیے نہ دیا کہ تم اسے پہنو اس لیے دیا کہ اسے بیچ لو تو حضرت عمر نے وہ دو ہزار درہم میں بیچا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس وقت ریشم مردوں کے لیے ممنوع نہ ہوا تھا اور پہن لینے سے ہدیہ لانے والے کا دل خوش ہوتا اس لیے حضور انور نے پہن لیا۔
۲
؎یہ میرے پہنتے ہی جبریل امین رب العالمین کی طرف سے اس کے حرام ہونے کا حکم لے آئے اور اب سے مردوں کو ریشم پہننا حرام کردیا گیا،یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا حضرت جبریل نے بتایا،نہ یہ مطلب ہے کہ جبریل علیہ السلام نے حضور پر حرام فرمادیا لہذا حدیث واضح ہے۔
۳
؎یعنی کیا میں حضو ر کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں اس لیے حضور نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جو مسلمان کو پہننا ممنوع ہے۔یہ حضرت عمر کا انتہائی خوفِ الٰہی ہے۔
۴
؎نہ تو حضور انور نے خود فروخت کرکے اس کی قیمت استعمال فرمائی نہ حضرت عمر کو یہ حکم دیا کہ یہ کپڑا پنی عورتوں کو پہنادو بلکہ حکم دیا کہ اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے کام میں لا ؤ کیونکہ یہ کپڑا بہت ہی قیمتی تھا اور جناب عمر کو اس وقت پیسہ کی ضرورت تھی حضورکی کرم نوازی بندہ پروری کی نظر ہر خادم پر رہتی تھی،حضور تو اب بھی ہم غلاموں پر نظر پرورش رکھتے ہیں ہماری ضروریات پوری فرماتے ہیں باذن الله ۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بھی بڑے قیمتی کپڑے تیار ہونے لگے تھے کہ ایک قبا کی قیمت دو ہزار درہم یعنی پانچ سو روپیہ تھی کیا شاندار کپڑا ہوگا۔۱∞؎اس وقت ریشم مردوں کے لیے ممنوع نہ ہوا تھا اور پہن لینے سے ہدیہ لانے والے کا دل خوش ہوتا اس لیے حضور انور نے پہن لیا۔
۲
؎یہ میرے پہنتے ہی جبریل امین رب العالمین کی طرف سے اس کے حرام ہونے کا حکم لے آئے اور اب سے مردوں کو ریشم پہننا حرام کردیا گیا،یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا حضرت جبریل نے بتایا،نہ یہ مطلب ہے کہ جبریل علیہ السلام نے حضور پر حرام فرمادیا لہذا حدیث واضح ہے۔
۳
؎یعنی کیا میں حضو ر کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں اس لیے حضور نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جو مسلمان کو پہننا ممنوع ہے۔یہ حضرت عمر کا انتہائی خوفِ الٰہی ہے۔
۴
؎نہ تو حضور انور نے خود فروخت کرکے اس کی قیمت استعمال فرمائی نہ حضرت عمر کو یہ حکم دیا کہ یہ کپڑا پنی عورتوں کو پہنادو بلکہ حکم دیا کہ اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے کام میں لا ؤ کیونکہ یہ کپڑا بہت ہی قیمتی تھا اور جناب عمر کو اس وقت پیسہ کی ضرورت تھی حضورکی کرم نوازی بندہ پروری کی نظر ہر خادم پر رہتی تھی،حضور تو اب بھی ہم غلاموں پر نظر پرورش رکھتے ہیں ہماری ضروریات پوری فرماتے ہیں باذن الله ۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بھی بڑے قیمتی کپڑے تیار ہونے لگے تھے کہ ایک قبا کی قیمت دو ہزار درہم یعنی پانچ سو روپیہ تھی کیا شاندار کپڑا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4377