Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4332

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مِنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللّٰهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:الإسبال في الإزار والقميص والعمامة من جر منها شيئا خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة. رواه أبوداود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سالم ۱؎سے وہ اپنے والد سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا نیچا چھوڑنا تہبند اور قمیض اور عمامہ میں ہے ۲؎جو ان میں سے کوئی چیز زیادہ نیچی رکھے تکبرًا تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظرِ رحمت نہ کرے گا ۳؎(ابو دا ؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ ابن عمر کے بیٹے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے آپ اسم بامسمی تھے، دین و تقویٰ صحیح و سالم رکھتے،حق بات کہنے میں بہت جری اور بے باک تھے،حجاج ابن یوسف جیسے ظالم حاکم کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے، ۱۰۶ھ؁∞ ایک سو چھ ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بڑے پایہ کے تابعی ہیں۔
۲
؎یعنی صرف نیچا تہبند ہی مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ عمامہ کا شملہ،کرتے کا دامن بھی اگر ضرورت سے زیادہ نیچا ہو تو وہ بھی ممنوع ہے اور اس پر بھی یہ ہی وعید ہے۔
۳
؎چنانچہ عمامہ کا شملہ نصف پیٹھ تک چاہیے،بعض چوتڑوں تک رکھتے ہیں ممنوع ہے اور قمیض کا دامن بعضے عرب ٹخنوں کے نیچے رکھتے ہیں ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4332