Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4346

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شهرةٍ منَ الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللّٰهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لبس ثوب شهرة من الدنيا ألبسه الله ثوب مذلة يوم القيامة. رواه أحمد وأبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو دنیا میں شہرت کا لباس پہنے گا ۱؎اسے اللہ تعالٰی قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا
۲
؎(احمد، ابودا ؤد ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو ایسا لباس پہنے جس سے لوگ اسے امیر جانیں یا ایسا لباس پہنے جس سے اسے لوگ بڑا تارک الدنیا فقیر صوفی ولی سمجھیں یہ دونوں قسم کے لباس شہرت کے لباس ہیں،بعض لوگوں کو ٹاٹ پہنے دیکھا گیا یہ بھی شہرت کا لباس ہے۔غرضیکہ جس لباس میں یہ نیت ہو کہ اس کی طرف لوگوں کی انگلیاں اٹھیں،لوگ اس کی عزت کریں خواہ امیر سمجھ کر خواہ ولی سمجھ کر وہ اس کی شہرت ہے،عزت اللہ رسول کی ہے جسے چاہیں دیں۔مرقات نے فرمایا کہ مسخرہ پن کا لباس پہننا جس سے لوگ ہنسیں یہ بھی لباس شہرت ہے۔
۲
؎قیامت میں سب لوگ ننگے اٹھیں گے پھر میدان محشر میں سب کی تن پوشی کی جائے گی،شہرت کا لباس پہننے والوں کو وہ لباس ملے گا جس سے انکی ذلت ظاہر ہو اس کے عکس کا حکم بھی برعکس ہی ہوگا کہ جو شخص سادہ لباس پہنے باوجود قدرت کے لباس فاخرہ نہ پہنےان شاءاللهاسے قیامت میں لباس عزت ملے گا بشرطیہ نیت صادق ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4346