Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4370

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهٖ مِنْ مُقَدَّمِهٖ عَلٰى ظَهْرِ قَدَمِهٖ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهٖ قُلْتُ لِمَ تَأْتَزِرُ هٰذِهِ الإِزْرَةَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَزِرُهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عكرمة قال: رأيت ابن عباس يأتزر فيضع حاشية إزاره من مقدمه على ظهر قدمه ويرفع من مؤخره قلت لم تأتزر هذه الإزرة؟ قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتزرها. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے جناب ابن عباس کو دیکھا کہ وہ تہبند باندھتے تو اپنے تہبند کا اگلا کنارہ اپنے قدم کی پشت پر ڈالتے ۲؎اور اس کے پیچھے سے اٹھاتے میں نے عرض کیا کہ آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں فرمایا اپنے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یوں ہی ازار پہنتے دیکھا۳؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں وہ تو صحابی ہیں بلکہ آپ عکرمہ تابعی ہیں،حضرت ابن عباس کے کاتب اور آزاد کردہ غلام،فقہاء مکہ معظمہ سے ہیں،اسّی سال عمر پائی، ۱۰۷؁∞ ایک سو سات میں وفات پائی۔
۲
؎تہبند باندھنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہ اگلے حصہ کا کنارہ زیادہ نیچا ہو حتی کہ قدم پر پڑ جائے اور پچھلا حصہ اونچا ہو اس میں پچھلے حصہ کا اعتبار ہے۔
۳
؎اس طرح تہبند باندھنا حضور سے کبھی کبھی ثابت ہوا ہے۔اس سے صرف حضرت ابن عباس ہی کو اطلاع ہوئی اور صحابی سے یہ عمل ثابت نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4370