Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4359

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رِمْثةَ التَّيْمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ وَلَهٗ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الشَّيْبُ وَشَيْبُهٗ أَحْمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ: وَهُوَ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ

وعن أبي رمثة التيمي قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوبان أخضران وله شعر قد علاه الشيب وشيبه أحمر. رواه الترمذي وفي رواية لأبي داود: وهو ذو وفرة وبها ردع من حناء

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رمثہ تیمی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا آپ پر دو سبز کپڑے تھے ۲؎اور آپ کے بال تھے جن پر بڑھاپا غالب تھا ۳؎اور سفید بال سرخ تھے۴؎(ترمذی)اور ابودا ؤد کی روایت میں ہے کہ آپ وفرہ والے تھے ۵؎جن میں مہندی کااثر تھا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے نام میں اختلاف ہے یا تو رفاعہ ابن یثربی ہے یا عمارہ ابن یثربی،قبیلہ تیم رباب سے ہیں نہ کہ تیم قریش سے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ تمیمی ہیں اپنے والد کے ساتھ آئے اور دونوں مسلمان ہوگئے بعد میں کوفہ میں قیام رہا۔(لمعات و مرقات و اشعۃ اللمعات)
۲
؎قمیض اور تہبند شریف یا تو بالکل سبز تھے یا اس میں سبز دہاریاں تھیں پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔جنتیوں کا لباس سبز ہوگا، رب تعالٰی فرماتاہے:"عَلَیْہِمْ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضْرٌ"۔اس سے معلوم ہوا کہ مرد کو ہرے کپڑے پہنناجائز ہے اگر اس عمل شریف کی اتبا ع میں ہو تو مستحب ہے۔
۳
؎یعنی سر مبارک میں ایک آدھ بال شریف سفید تھا،شعر کی تنکیر کمی بیان کرنے کے لیے ہے۔حضور اقدس کے سفید بالوں کے متعلق تین روایات ہیں: چودہ بال شریف سفید تھے،سترہ تھے،بیس تھے،ہوسکتا ہے کہ اولًا چودہ بال شریف سفید ہوئے ہوں پھر آخر میں سترہ سر مبارک میں اور تین داڑھی شریف میں کل بیس لہذا تینوں روایات درست ہیں۔
۴
؎اس عبارت کے تین مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ سفید بال مہندی سے سرخ کیے گئے تھے۔دوسرے یہ کہ عطر یا خوشبودار تیل کے رنگ سے سرخ تھے یا یہ کہ وہ خالص سفید نہ تھے بلکہ مائل بہ سرخی تھے جب بال سفید ہونے والا ہوتا ہے تو پہلے سرخ ہوتا ہے پھر سفید یا اولًا جڑ کی طرف سے سفید ہوتا ہے نوک کی طرف سے سرخ۔
۵
؎سر کے بال جو کان کی گدیا تک پہنچیںوفرہکہلاتے ہیں اور جو کان و کندھوں کے درمیان ہوں انہیںحجہکہا جاتا ہے اور اگر کندھوں تک پہنچ جائیں تولمہہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف کبھی وفرہ ہوتے تھے کبھی حجہ،کبھی لمہ۔کندھوں سے نیچے بال مردوں کے لیے بہتر نہیں۔اس کی تحقیقان شاءاللهحلیہ شریف کی احادیث میں ہوگی۔
۶
؎یعنی ان چند سفید بالوں کو مہندی سے سرخ کیا گیا تھا مگر یہ ان کا اپنا خیال ہے۔حق یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہ لگایا نہ سرخ نہ کسی اور رنگ کا،آپ کے بال شریف خضاب کی حد تک سفید ہوئے ہی نہیں،جب سرکار سر میں تیل ڈالتے تو وہ سفید بال ظاہر ہوتے تھے ورنہ نہیں چند سفید بال ظاہر نہیں ہوا کرتے،ہاں یہ ثابت ہے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈک کے لیے سر شریف میں مہندی لگائی ہے۔(اشعہ)نیز داڑھی شریف بھی مہندی سے دھوئی ہے یعنی صفائی کے لیے مہندی لگاکر دھو ڈالی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4359