Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4334

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْإِزَارَ: فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «تُرْخِي شِبْرًا» فَقَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفُ عَنْهَا قَالَ: «فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أم سلمة قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين ذكر الإزار: فالمرأة يا رسول الله؟ قال: «ترخي شبرا» فقالت: إذا تنكشف عنها قال: «فذراعا لا تزيد عليه» . رواه مالك وأبوداود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا جب کہ حضور نے تہبندکا ذکر کیا ۱؎یا رسول اللہ تو عورت ۲؎فرمایا ایک بالشت لٹکائے۳؎بولیں تب تو اس سے کھل جائے گی۴؎فرمایا تو ایک گز اس پر زیادہ نہ کرے ۵؎(مالک،ابودا ؤد،نسائی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ فرمایا کہ مؤمن کے تہبند آدھی پنڈلی تک رہنے چاہئیں تب حضرت ام سلمہ نے یہ سوال پیش کیا۔
۲
؎یعنی مؤمن تو عورت بھی ہے اگر اس کا تہبند آدھی پنڈلی تک رہے تو اس کی نماز کیسے درست ہوگی اور اس کی پنڈلی ستر ہے اس کا کھلا رکھنا اسے ممنوع ہے۔
۳
؎یعنی بمقابلہ مرد کے ایک بالشت اپنا تہبند زیادہ رکھے۔مطلب یہ ہے کہ نصف پنڈلی سے ایک بالشت زیادہ لٹکائے تاکہ ٹخنے بھی ڈھکے رہیں۔
۴
؎یعنی ایک بالشت زیادہ رکھنے میں اگرچہ بیٹھنے کی حالت میں تو اس کا ستر چھپا رہے گا مگر چلنے کی حالت میں اس کے قدم ضرور کھلیں گے یا بے احتیاطی میں پنڈلی بھی کھل جائے گی لہذا ایک بالشت زیادہ ہونے سے بھی ستر حاصل نہ ہوگا۔
۵
؎گز سے شرعی گز مراد ہے یعنی ایک ہاتھ یا دو بالشت جو کہ ڈیڑھ فٹ یا اٹھارہ انچ ہوتے ہیں شریعت میں اسی گز کا اعتبار ہے۔مطلب یہ ہے کہ دو بالشت زیادہ رکھے اس سے زیادہ نہ کرے ورنہ زمین پر گھسیٹے گا اور نجس ہوتا رہے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4334