Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4355

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَمُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهٖ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلٰى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ ". رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن أبي ريحانة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عشر: عن الوشر والوشم والنتف وعن مكامعة الرجل الرجل بغير شعار ومكامعة المرأة المرأة بغير شعار وأن يجعل الرجل في أسفل ثيابه حريرا مثل الأعاجم أو يجعل على منكبيه حريرا مثل الأعاجم وعن ركوب النمور ولبوس الخاتم إلا لذي سلطان ". رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ریحانہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا: دانت پتلے کرانے سے اور گودا کرانے سے سفید بال اکھیڑنے سے اور مرد کو مرد کے ساتھ بغیر کپڑے یوں ہی عورت کو عورت کے ساتھ بغیر کپڑے کے لپٹنے سے ۲؎اور اس سے کہ مرد اپنے نیچے کپڑے میں ریشم لگائے ۳؎عجمیوں کی طرح یا اپنے کندھوں پر ریشم لگائے عجمیوں کی طرح ۴؎اور چیتے کی کھال پر سوار ہونے سے اور انگوٹھی پہننے سے سوا حکومت والے کے ۵؎(ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبداللہ ابن شمعون ابن یزید ہے،قرضی کہاجاتاہے مگر ہیں انصاری،چونکہ بنی قریظہ کے حلیف تھے اس لیے قرضی کے نام سے مشہور ہوگئے،آپ کی بیٹی کا نام ریحانہ تھا اس لیے ابو ریحانہ کنیت ہوئی،بڑے عابد و زاہد متقی تارک الدنیا صحابی ہیں،شام میں قیام رہا،وہاں ہی وفات پائی۔(مرقات و اکمال)
۲
؎بعض بے وقوف حسن و خوبصورتی کے لیے اپنے چوڑے دانت کسی مشین کے ذریعے پتلے کرالیتے ہیں یہ حرام بھی ہے اور سخت نقصان دہ بھی۔بعض مرد اور عمومًا عورتیں اپنی کلائیوں اور رخساروں میں سوئی کے ذریعہ سرمہ وغیرہ بھروالیتے ہیں جسے نیلہ گودنا کہا جاتا ہےیہ بھی سخت ممنوع ہے ،یوں مردوں کا ننگے ہو کر ایک ساتھ سونا اور عورتوں کا برہنہ ایک ساتھ سونا حرام ہے،کپڑے پہنے ہوں تو جائز ہے،اگر خاوند بیوی ننگے ایک بستر میں سوئیں تو ممنوع نہیں جب کہ چادر وغیرہ سے ڈھکے ہوئے ہوں بالکل ننگے رہنا سونا ممنوع ہے اکیلے آدمی کا بھی ۔سر یا داڑھی میں سے سفید بال نوچ کر الگ کردینا حسن کے لیے ہو تو ممنوع ہے ۔
۳
؎یعنی جب ریشم کا کپڑا نیچے بھی پہننا حرام ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا تو اوپر کا کپڑا ریشمی ہو تو سخت حرام کہ وہ تو نظر بھی آتا ہے یہ حکم مرد کے لیے ہے۔
۴
؎یہ ممانعت جب ہے جب کہ ریشم چار انگل سے زیادہ ہو۔اس سے معلوم ہواکہ عجمی کفار سے مشابہت مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ ہندو ؤں کی سی دھوتی باندھ کر نماز پڑھنا ممنوع ہے اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے۔
۵
؎حکومت سے مراد عام حکومت ہے دینی ہو یا دنیاوی لہذا مفتی قاضی حاکم سب ہی اس میں داخل ہیں کہ مہر والی انگوٹھی پہنیں تاکہ اپنے فتو ؤں اور فیصلوں پر اس انگوٹھی سے مہر لگایا کریں مگر وہ بھی چاندی کی ہو سوا چار ماشہ تک۔خلاصہ یہ ہے کہ عام مسلمان مردوں کو انگوٹھی نہ پہننا بہتر،علماء و حکام کو چاندی کی انگوٹھی پہننا بالکل درست۔سونے کی انگوٹھی عورتوں کو حلال ہے مردوں کو حرام۔لوہا،پیتل،تانبہ کی انگوٹھی چھلا مرد و عورت دونوں کو حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4355