Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4352

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الأَحْوَصِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ دُونٌ فَقَالَ لِي: «أَلَكَ مَالٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِي اللّٰهُ منَ الإِبلِ وَالْبَقر وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ. قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللّٰهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ

وعن أبي الأحوص عن أبيه قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلي ثوب دون فقال لي: «ألك مال؟» قلت: نعم. قال: «من أي المال؟» قلت: من كل المال قد أعطاني الله من الإبل والبقر والخيل والرقيق. قال: «فإذا آتاك الله مالا فلير أثر نعمة الله عليك وكرامته » . رواه أحمد والنسائي وفي شرح السنة بلفظ المصابيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوالاحوص سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا مجھ پر معمولی کپڑے تھے ۲؎تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے کہا ہاں فرمایا کون سا مال ہے میں نے کہا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کے مال سے دیا ہے۳؎اونٹ گائے اور بکری اور گھوڑے اور غلام فرمایا تو جب تجھے اللہ نے مال دیا ہے تو چاہیے کہ اللہ کی نعمت اس کی بخشش کا اثر تجھ پر دیکھا جائے ۴؎(احمد،نسائی)
اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ سے ہے ۵
؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین میں سے ہیں،آپ کا نام عوف ابن مالک ابن نضر ہے،آپ نے اپنے والد اور ابن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم صحابہ سے ملاقات کی،آپ سے خواجہ حسن بصری ابو اسحاق اور عطاء ابن سائب نے احادیث روایت کیں۔آپ کے والد مالک ابن نضر صحابی ہیں۔
۲
؎جو میری مالی حیثیت سے کم تھے مجھے خدا تعالٰی نے بہت غنی کیا ہوا تھا مگر کپڑے پھٹے پرانے کم قیمت زیب تن کیے ہوئے تھے۔
۳
؎یعنی عرب میں جس مال کی بہت قدر ہوتی ہے جانور اور غلام ان میں سے اللہ نے مجھے ہر مال دیا ہے۔عرب میں جانوروں کی ملکیت کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جیسے آج کل مربے اور شہری جائیداد والے کی بڑی عزت ہوتی ہے۔
۴
؎یعنی قیمتی اور صاف کپڑے پہنو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم پر اللہ کا فضل ہے یہ بھی اللہ کا شکر یہ ہے۔مطلب وہ ہی ہے کہ شکر کے لیے اچھا لباس پہنے فخر کے لیے نہ پہنے،کبھی اچھا لباس پہنے شکر کے لیے کبھی معمولی پہنے انکسار کے طور پر۔اپنے کو اچھے کھانے اچھے لباس کا عادی نہ بنائے کہ کبھی معمولی کھا پی نہ سکے۔
۵
؎یعنی ان دونوں روایتوں کے الفاظ مختلف ہیں مضمون ایک ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4352