Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4309

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي حَرِّ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ: هٰذَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنها قالت: بينا نحن جلوس في بيتنا في حر الظهيرة قال قائل لأبي بكر: هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا متقنعا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں اس حال میں کہ ہم بیٹھے تھے اپنے گھر میں دوپہر کی گرمی میں کہ کسی کہنے والے نے جناب ابوبکر سے کہا یہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم آرہے ہیں سر شریف ڈھانپے ہوئے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ ہجرت کے دن کا ہے۔حضور صلی ا للہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو خبر دے دی تھی کہ مجھے عنقریب ہجرت کا حکم ملنے والا ہے تم مکہ معظمہ میں رہو تم ہجرت میں ہمارے ساتھ ہو گے،حضرت صدیق اکبر منتظر رہے آج ہجرت کا حکم ملنے پر دوپہر کے وقت حضور حضرت صدیق اکبر کے گھر تشریف لائے اس طرح کہ چادر شریف اوڑھے ہوئے تھے اور چادر کا ایک حصہ گھونگھٹ کی طرح چہرہ پر تھا جس پر چہرہ صاف نظر نہ آتا تھا یا تو گرمی کی وجہ سے یہ عمل تھا یا تاکہ کوئی حضور کو دیکھ نہ سکے یہ ساری چیزیں صیغہ راز میں رکھنی تھیں،بعض صوفیاء خصوصًا حضرات نقشبندیہ چادر کا گھونگھٹ مارتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے۔بعض لوگوں نے اس کو ناجائز کہا ہے،بعض نے بلا ضرورت ناجائز کہا مگر حق یہ ہے کہ مطلقًا جائز ہے چنانچہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اسکے متعلق ایک رسالہ لکھا "طی اللسان عن ذم الصیلسان" جس میں بہت احادیث اس عمل کی جمع فرمائیں۔دوسرے موقعوں پر بھی حضور صلی ا للہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے،حضرت صحابہ کرام تابعین عظام سے بھی ثابت ہے۔حضور غوث الثقلین قطب الکونین سید شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ عمل ثابت ہے۔(اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4309