Main Icon

باب:لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4345

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أُمَامَة إِيَاسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَلَا تَسْمَعُونَ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ؟» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن أبي أمامة إياس بن ثعلبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تسمعون؟ ألا تسمعون أن البذاذة من الإيمان أن البذاذة من الإيمان؟» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ ابن ایاس ابن ثعلبہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم نہیں سنتے بے شک پرانے کپڑے پہننا ایمان سے ہے بے شک پرانے کپڑے پہننا ایمان سے ہے ۲؎(ابودا ؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ابو امامہ دو ہیں اور دونوں صحابی ہیں: ایک ابو امامہ باہلی جو قبیلہ بنی باہلہ سے ہیں،دوسرے وہ جن کا نام ایاس ابن ثعلبہ ہے، یہ انصاری ہیں،یہاں یہ دوسرے ابو امامہ مراد ہیں،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے رضی اللہ عنہم اجمعین۔
۲
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی بیان کیا گیا کہ معمولی لباس پھٹے پرانے کپڑے پہننے سے شرم و عار نہ ہونا کبھی پہن بھی لینا مؤمن متقی کی علامت ہے،ہمیشہ اعلیٰ درجہ کے لباس پہننے کا عادی بن جانا کہ معمولی لباس پہنتے شرم آئے طریقہ متکبرین کا ہے۔یہاں ایمان سے مراد کمالِ ایمان ہے،اس حدیث کو احمد،ابن ماجہ اور حاکم نے ابو امامہ حارثی سے روایت کیا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4345