Main Icon

باب:جہاد کی فرضیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1352

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَعَنْ جابرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ النَّبيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قالَ:الْحَرْبُ خَدْعَةٌ.

عن ابی ھریرۃ وعن جابر رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:الحرب خدعة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ و حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”جنگ دھوکہ ہے۔“

شرح حدیث

جنگ میں کفار کے ساتھ دھوکہ جائز ہے:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”حدیث میں مذکور لفظ”خَدْعَةٌ“میں تین احتمال ہیں:(1)خَدْعَۃٌاس کا مطلب ہے کہ جنگ ایک دھوکہ ہےجودشمن کے خلاف دھوکے سے کام لے گا وہ کامیاب ہوگا ۔(2)خُدْعَۃٌیعنی جنگ اکثر و بیشتر مکروفریب ہے۔(3)خُدَعَۃٌیعنی جنگ انسان کو بہت دھوکہ دیتی ہے کہ انسان کے طرح طرح کے خیال اور تمنائیں ہوتی ہیں لیکن جب وہ میدانِ جنگ میں اترتا ہے تو اپنے خیالات کے برعکس پاتا ہے۔“امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” علمائے اُمَّت اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں جس طرح بھی کفار کو دھوکہ دینا ممکن ہو ان کو دھوکہ دینا جائز ہے البتہ اس طرح دھوکہ دینا جائز نہیں ہے جس میں اُن سے کیا ہوا عہد توڑنایا اُن کو دی ہوئی امان کے خلاف کرنا لازم آئے ۔امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ جنگ میں حقیقۃً جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے جنگ میں دھوکہ دینے کے لیے تَورِیَہ اور تعریض سے کام لینا چاہیے(توریہ اور تعریض کا مطلب یہ ہے کہ ایک لفظ کے دو معنیٰ ہوں ایک قریب اور ایک بعید،متکلم معنیٰ بعید مراد لے اور مخاطب کو معنیٰ قریب کے وہم میں مبتلا کرے)۔ ظاہر یہ ہے کہ جنگ میں حقیقۃً جھوٹ بولنا بھی جائز ہے لیکن توریہ اور تعریض پر اِکتفا کرنا افضل ہے۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جنگ میں مکروفریب غلبہ پالینے اور جنگ کی زیادتی سے زیادہ مفید ہے مثلاً کسی جگہ میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا جائے اور دشمن کو یہ تاثر دیا جائے یہ لوگ جنگ سے کتراکر واپس جارہے ہیں تاکہ دشمن غافل ہوجائے پھر اچانک حملہ کرکے اسے ملیا میٹ کردیا جائے اور اسی قسم کی دوسری چالیں لیکن مکر میں کھلم کھلا جھوٹ نہ بولے۔“
علامہ سیدمحموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مطلب دشمن کو شکست دینے اور اس پر قابو پانے کے لیے خفیہ تدبیر،ذومعنیٰ الفاظ یا طرزِ عمل اختیار کرنے کے ہیں۔یہ بات دورِ قدیم میں بھی تھی اور موجودہ دور کی لڑائیوں کا بھی یہی حال ہے۔میدانِ جنگ میں بظاہر فوج کا عمل کچھ ہوتا ہےاوروہ کرتیں کچھ اور ہیں جس سے دشمن دھوکا کھاجاتا ہے ۔حالتِ جنگ میں اس قسم کے خفیہ اور مُتضاد طرزِ عمل کو آج کے دور میں بھی معیوب نہیں سمجھا جاتااور اسلام میں بھی یہ جائز ومباح ہےویسے اسلام کی بنیادی دعوت یہی ہے کہ دھوکہ،فریب،بدعہدی، خیانت اور جھوٹ حرام،ناجائز اور گناہ ہے۔“لڑائی میں دھوکہ دینے کی صورتیں:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”لڑائی میں دھوکہ تَورِیَہ سے بھی ہوسکتا ہے وعدہ خلافی سے بھی اور چھپ کر حملہ کرنے سے بھی دھوکہ ہوسکتا ہے۔جھوٹ اگرچہ بالاتفاق حرام ہے لیکن لڑائی میںاﷲتعالیٰ نے اجازت دی ہے ۔علامہ کِرمانیرَحِمَہُ اﷲ تَعَالٰینے کہا:لڑائی میں دھوکا مباح ہے اگرچہ اس کے بغیر (علاوہ)حرام ہے۔“مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جنگ کی جان دشمن کو دھوکہ میں رکھنا ہے کہ اسے ہمارے اصلی ارادہ اور اصلی حال پر خبر نہ ہونے پائے،اپنی تھوڑی سی جماعت کو بہت ظاہر کیا جائے،تھوڑے سامان کو بے شمار دکھایا جائے یہ جنگی کمال اور مجاہد کی چال ہے۔کسی میدان کو خالی چھوڑ دینا کہ دشمن اسے خالی جان کر اپنی فوج لے آوے پھر داہنے بائیں اور پیچھے سے نکل کر اس کی فوج کو گھیر لینا جس سے ساری فوج ہتھیار ڈال دے۔“( )اماممُہَلِّب رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جنگ میں دھوکہ دینے کی ایک مثال یہ ہے کہ مدِ مقابل سے کہے اپنے گھوڑے کی رسی سنبھال وہ کُھل چکی ہےکہنے والا اس سے سابقہ زمانے میں رسی کھلنا مراد لے پھر وہ جیسے ہی رسی کی طرف متوجہ ہو اس پر حملہ کردےیاپھر اس کے سامنے کوئی ایسی بات کرے جو اسے شدید خوف میں مبتلا کردے جیسے یہ کہے کہ تمہارا سردار مرگیا ہےاور اس جملے سے نیند یا دین کی موت مرادلے دونوں صورتوں میں تعریض سے کام لے اورخلافِ واقعہ بات کرنے کا قصد نہ کرے۔ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم کے ساتھ جنگ کا ارادہ فرماتے تو اسے ظاہر نہ فرماتے بلکہ یہ تاثر دیتے جیسے کہیں اور حملہ کرنےکی تیاری کی جارہی ہو۔“مدنی گلدستہ’’رسول ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جنگ میں جس طرح بھی کفار کو دھوکہ دینا ممکن ہو ان کو دھوکہ دینا جائز ہے مگر ان سے کئے ہوئے عہد کو توڑنا یا اُن کو دی ہوئی امان کی مخالفت کرنا جائزنہیں۔
(2) لڑائی میں دشمن کو دھوکہ دینا تَورِیَہ سے بھی ہوسکتا ہے، وعدہ خلافی سے بھی اور چھپ کر حملہ کرنے سےبھی۔
(3) دورانِ جنگ میں اپنی تھوڑی سی جماعت کو بہت ظاہر کرنا،تھوڑے سامان کو بے شمار دکھانا یہ جنگی کمال اور مجاہد کی چال ہے۔
(4) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی قوم سے جنگ کا ارادہ فرماتے تو اسے ظاہر نہ فرماتے بلکہ یہ تاثر دیتے جیسے کہیں اور حملہ کرنےکی تیاری کی جارہی ہو۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قلبِ سلیم عطافرمائے دشمنانِ اسلام کے خلاف حکمتِ عملی سے کام لینے کی توفیق عطافرمائے ،بوقتِ ضرورت تَن مَن دَھن کے ساتھ جہاد کرنے کی توفیق عطافرمائے ،ایمان وعافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں شہادت کی موت عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1352