Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 74

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ، فَرَاَیْتُ النَّبِیَّ وَمَعَہُ الرُّہَیْطُ، وَالنَّبِیَّ وَمَعَہُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِیَّ وَلَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ، اِذْرُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمْ اُمَّتِیْ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذَا مُوْسٰی وَقَوْمُہُ، وَلَکِنِ انْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ،
فَقِیْلَ لِیْ:اُنْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌعَظِیْمٌ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذِہٖ اُمَّتُکَ، وَمَعَہُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفاً یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ نَہَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ، فَخَاضَ النَّاسُ فِی اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمْ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْاِسْلَامِ، وَلَمْ یُشْرِکُوْابِاللّٰہِ شَیْاً، وَذَکَرُوْااَشْیَاءَ، فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الَّذِیْ تَخُوْضُوْنَ فِیْہِ؟ فَاَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ہُمُ الَّذِیْنَ لَایَرْقُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَایَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:اَنْتَ مِنْہُمْ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:سَبَقَکَ بِہَاعُکَّاشَۃُ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:عرضت علی الامم، فرایت النبی ومعہ الرہیط، والنبی ومعہ الرجل والرجلان، والنبی ولیس معہ احد، اذرفع لی سواد عظیم فظننت انہم امتی، فقیل لی:ہذا موسی وقومہ، ولکن انظر الی الافق، فنظرت فإذا سواد عظیم،
فقیل لی:انظر الی الافق الآخر، فإذا سوادعظیم، فقیل لی:ہذہ امتک، ومعہم سبعون الفا یدخلون الجنۃ بغیر حساب ولا عذاب، ثم نہض فدخل منزلہ، فخاض الناس فی اولئک الذین یدخلون الجنۃ بغیر حساب ولا عذاب، فقال بعضہم: فلعلہم الذین صحبوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وقال بعضہم: فلعلہم الذین ولدوا فی الاسلام، ولم یشرکواباللہ شیا، وذکروااشیاء، فخرج علیہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما الذی تخوضون فیہ؟ فاخبروہ فقال: ہم الذین لایرقون، ولا یسترقون ولایتطیرون، وعلی ربہم یتوکلون، فقام عکاشۃ بن محصن فقال: ادع اللہ ان یجعلنی منہم فقال:انت منہم، ثم قام رجل آخر فقال: ادع اللہ ان یجعلنی منہم فقال:سبقک بہاعکاشۃ.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِرشادفرمایا : ’’ میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں تو میں نے ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا، اُن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا اُن کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ اُن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔اچانک ایک بہت بڑی جماعت میرے سامنے پیش کی گئی تومیں نے خیال کیا کہ شاید یہ میری اُمَّت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام) اور اُن کی اُمَّت ہے، البتہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھئے، میں نے دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔مجھے کہا گیا کہ دوسرے کنارے کی طرف دیکھئے تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھ سے کہاگیا:یہ آپ کی اُمَّت ہے اور اِن کے ساتھ سترہزار 70000اَفرادایسے ہیں جو بِلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے اور کاشانہ ٔ اَقدس میں تشریف لے گئے ۔صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہونے والوں کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ بعض نے کہا: ’’ شاید وہ رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحبت یافتہ ہوں گے۔ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ شاید وہ ہوں گے جومسلمان پیدا ہوئے اور پھراللہ عَزَّ وَجَلَّکےساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ۔ ‘‘ الغرض صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے مختلف خیالات کا اِظہار کیا ۔ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے اور فرمایا: ’’ کس چیزکے بارے میں بحث کررہے ہو؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زیر بحث مسئلہ بتایا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، نہ کراتے ہیں اور نہ ہی بد فالی لیتے ہیں اور اپنے ربّعَزَّوَجَلَّپر توکل کرتے ہیں ۔ ‘‘ (یہ سن کر) عُکَّاشہ بن مِحْصَنرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکھڑے ہوئے اور عرض کی: ’’ یارسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دعا کیجئےاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے بھی اُن میں شامل فرمادے۔ ‘‘ فرمایا : ’’ تو اُن میں سے ہے۔ ‘‘ پھر ایک اور شخص کھڑا ہواورعرض کی: ’’ دعا کیجیےاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے بھی اُن لوگوں میں شامل فرمادے ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ اِس میںعُکَّاشَہتم پرسبقت لے گئے۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں تین باتوں کا بیان ہے : (1) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے اُمَّتُوں کا پیش ہونا۔ (2) سترہزار70000لوگوں کاجنت میں بلاحساب وعذاب داخلہ (3) بلاحساب وعذاب جنت میں جانے والوں کی خصوصیات۔اِن تینوں کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔

شرح حدیث

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانالفاظِ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں ۔یہ پیشی یا تو میثاق کے دن ہوئی یا کسی خوابی معراج میں یاجسمانی معراج میں ، تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے معراج میں جہاں اور چیزیں ملاحظہ فرمائیں وہاں ہی سارے نبی مع اُن کی اپنی اُمَّتوں کے حال آنکھوں سے دیکھے۔ معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگا ہ سے کوئی نبی اور ہر نبی کا کوئی اُمَّتی غائب نہیں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سب کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ ا ن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔یعنی بعض نبی دنیا میں وہ بھی گزرے جن کی بات ایک شخص نے بھی نہ مانی وہ ہمارے سامنے اکیلے ہی پیش ہوئے، بعض نبی وہ جن کی دعوت صرف ایک نے یا دو نے یا جماعت نے قبول کی وہ نبی ہمارے سامنے اُسی ایک دو یازیادہ کے ساتھ پیش ہوئے۔ معلوم ہوا کہ اُمَّت سے مراد اُمَّت اجابت ہے۔وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔یعنی اُس جماعت کی کثرت کا یہ حال تھا کہ آگے داہنے بائیں ہر طرف اِس کثرت سے آدمی تھے کہ تاحدِّ نظر آدمی ہی آدمی تھے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ساری اُمَّت کو ملاحظہ فرمایا، حضور سے کوئی شخص پوشیدہ نہیں ۔ ‘‘(2) سترہزار 70000کا بِلاحساب جنت میں داخلہ:جب سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو ملاحظہ فرمایا تو کہا گیا کہ اِن کے ساتھ ستر ہزار 70000افراد ایسے ہیں جو بِلاحساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”اِس میں دو اِحتمال ہیں ایک یہ کہ اُسی جماعت میں یہ لوگ بھی ہیں جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ اُن کے علاوہ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب جنتی ہیں ۔ پہلا اِحتمال زیادہ قوی ہے، ستر ہزار سے مراد بے شمار لوگ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ خاص تعداد ہی مُراد ہو۔ یعنی ساری اُمَّت میں ستر ہزار بے حساب جنتی ہیں ۔ اِس دوسرے اِحتمال کی تائید اِس روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا: اُن ستر ہزار میں سے ہر شخص کے ساتھ سترستر ہزار ہوں گے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا، بعض لوگ حساب سے مستثنی ٰبھی ہوں گے۔ ‘‘(3) بِلاحساب جنت میں داخل ہونے والوں کی خصوصیات :حدیثِ مذکور میں جنتیوں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں : (۱) نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کراتے ہیں ۔حضرت سَیِّدُنَاابو الحسن قابِسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں وہ جھاڑ پھونک مراد ہے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ورنہ وہ دم وتعویذ جو کلامِ الٰہی پرمُشتمل ہو وہ شارِععَلَیْہِ السَّلَامنے خود بھی کیا اور اُمَّت کو بھی اِس کی تعلیم دی اور ایسا دم وتعویذمقامِ تو کل سے نہیں نکالتا۔ ‘‘ (۲) بدفالی نہیں لیتے۔ یعنی وہ پرندوں وغیرہ سے بدشگونی نہیں لیتے جیسا کہ اِسلام سے پہلے اُن کی عادت تھی۔ بد شگونی شر میں ہوتی ہےجبکہ فال خیر میں ۔حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفال (نیک شگون) کو پسند فرماتے تھے۔ (۳) اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں ۔ اَسباب اختیار کرتے ہوئے کسی کام کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کردینا ”توکل“ کہلاتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں بِلا عذاب و حساب جنت میں داخلے کی خوشخبری دی گئی ہے اگر وہ ظالم اور گناہ گار ہوں کیا پھر بھی جنت میں داخل ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اِن اَوصاف کے ساتھ ساتھ عدل و اِنصاف کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے بھی ہوں گے۔ یا پھر اِن اَوصاف کی بدولتاللہ عَزَّ وَجَلَّاُن کے گناہ بخش دے گا اور اُن کی خطائیں مٹا دے گا۔حضرتِ سَیِّدُنَا عُکَّاشَہ بِن مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:یہ مشہور صحابی ہیں ، بدر اور بعد ِبدر تمام غزوات میں شریک ہوئے۔بدر میں آپ کی تلوار ٹوٹ گئی تو حضورِ اَنورشفیع روزِ محشرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو کھجور کی چھڑی عنایت فرمائی جو آپ کے ہاتھ میں پہنچتے ہی تلوار بن گئی۔سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو جنت کی بشارت دی۔ 45 سال عمر پائی، خلافتِ صدیقی میں وفات ہوئی۔ آپ سے حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ، سَیِّدُنَا عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماور خود آپ کی بہن حضرت سَیِّدَتُنَا اُمّ قَیْس بنت مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے روایات لی ہیں ۔دوسرے شخص کےلیے دعا کیوں نہیں کی گئی؟حضرت سَیِّدُنَا عُکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد ایک اور شخص نے بارگاہِ رِسالت میں دعا کے لیے عرض کی۔اُس شخص کے بارے میں مُحَدِّثِیْنِ کِرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اِختلاف ہے۔عمدۃ القاری میں ہے: ایک قول کے مطابق وہ شخص منافق تھا۔سر کارِ دو عالم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس کی پردہ پوشی فرماتےہوئے اَحسن اَنداز میں جواب دیا کہ شاید وہ توبہ کر لے اور راہِ راست پر آجائے۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ایک قول یہ ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وحی کے ذریعے علم ہوگیا تھا کہ عُکاشہ کا سوال قبول کیا جائے گا اور دوسرے شخص کے بارے میں یہ بات واقع نہ ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ خطیب بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْھَادِینے اپنی کتاب ”اَلْاَسْمَاءُ الْمُبْھَمَۃُ فِی الْاَنْبَاءِ الْمُحْکَمَۃِ“ میں فرمایا کہ دوسرے شخص حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن عُبادہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ اگر یہ بات درست ہے تو وہ قول باطل ہوجائے گا جس میں کہا گیا کہ وہ شخص مُنَافِق تھا اور دوسرا قول (یعنی حضرت سَیِّدُنَا سعد بن عُبادہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوالا) اَظْہَر و مُخْتَار ہے۔
فَتْحُ الْبَارِی میں ہے:عَلَّامَہ قُرْطُبِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: ’’ دوسرے شخص میں وہ صفات نہ تھیں جو حضرت سَیِّدُنَاعُکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں تھیں ، اِس ‏لیے ا ُس کی بات قبول نہ کی گئی۔ کیونکہ اگر اُس کی بات بھی مان لی جاتی تو وہاں پر موجود تمام لوگ یہی سوال کر سکتے تھے اِس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا لہٰذاایسا جواب دیا گیا کہ جس سے یہ باب بند ہوگیا۔ اوریہ تاویل اِن دو وجوہات کی بنا پر اُس قول سے بہتر ہے جس میں دوسرے شخص کومنافق کہا گیا ہے: (۱) صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں اَصل عدمِ نفاق ہے اور نقلِ صحیح کے بغیر اِس کے خلاف بات ثابت نہیں ہوسکتی۔ (۲) ایسا سوال قصدِ صحیح اور تصدیقِ رسول پر یقین کی وجہ سے ہی ہوتا ہے پھر کسی منافق سے یہ کیسے صادر ہوسکتا ہے؟ ‘‘ عَلَّامہ سُہَیْلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: ’’ میرے نزدیک یہ وجہ تھی کہ حضرت سَیِّدُنَاعُکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سوال کی قبولیت کی گھڑی تھی جس کا سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو علم تھا۔لیکن جب دوسرے شخص نے سوال کیا تو وہ مبارک ساعت گزر چکی تھی اِس ‏لیے اُس کا سوال قبول نہ کیا گیا۔ ‘‘
اِمام ابن حجر عَسْقَلَانی
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ یہ وُجُوہات اَئِمَّہ کرام کے کلام سے حاصل ہوئی ہیں اور حقیقتِ حالاللہ عَزَّ وَجَلَّبہتر جانتا ہے۔ اور مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عُکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ہمشیرہ حضرتِ سَیِّدَتُنَا اُمِّ قَیْس بِنْتِ مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :ایک مرتبہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بقیع کے متعلق فرمایا کہ اِ س قبرستان سے ستر ہزار70000 اَفرادبِلاحساب جنت میں جائیں گے ، اُن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ یہ سن کرایک شخص (یعنی سَیِّدُنَا عُکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے عرض کی: ’’ یارسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں بھی (اُن میں سے ہوں ؟ ) ‘‘ فرمایا: ’’ اور تو بھی۔ ‘‘ پھر ایک دوسراشخص کھڑا ہوا اور کہا : ’’ میں بھی؟ ‘‘ فرمایا: ’’ عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا ۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ میں نے سَیِّدَتُنَا اُمِّ قَیْس بنت مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھا کہ حضور سَروَرِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسرے شخص سے وہی بات کیوں نہیں کہی جو سَیِّدُنَاعکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کہی تھی؟ ‘‘ فرمایا: ’’ میرا خیا ل ہے کہ دوسرا شخص منافق تھا۔ ‘‘ پس جس نے دوسرے شخص کو اِس حدیث کی بنیاد پر منافق کہا ہے تو اُس کے غیر کی تاویل کو رَد نہیں کیا جائے گا۔ (یعنی جس نے منافق نہیں کہا بلکہ کوئی اور تاویل کی تو اُس کی بات اِس حدیث کی بنیاد پر رَد نہیں کی جائے گی) کیونکہ اِس حدیث میں تو صرف ظن کی بات ہے۔ ‘‘ ( اورفقط ظن کی وجہ سے کسی کی منافقت ثابت نہیں ہوتی) ۔دم کرنے کا جواز اور مُمَانعت میں مُطابَقت:حدیثِ مذکور میں جھاڑ پھونک کی ممانعت کا بیان ہے جبکہ کئی احادیثِ مبارکہ سے دم کا ثبوت ملتا ہے تو اِن دو طرح کی حدیثوں میں کیسے مطابقت ہوگی؟ آئیے اِس کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیتفہیم البخاری میں فرماتے ہیں : ’’ بعض اَحادیث میں دَم (جھاڑ پھونک) کرنے کا جواز اور بعض میں ممانعت مذکور ہے، دونوں قسم کی اَحادیث بکثرت ہیں ، اِن میں اِتِّفَاق کی صورت یہ ہے کہ جن اَحادیث میں ممانعت ہے وہ اُس دم پر محمول ہیں جس میں غیر شرعی کلما ت ہوں اور جس دم میں کلماتِ قرآن اور اَسما ء ِ ا لہٰیہ مذکور ہیں وہ منتر (دَم) جا ئز ہیں ۔ ‘‘صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی دَم کیا کرتے تھے:حضرتِ سَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا ایک قافلہ عرب کے کسی قبیلے میں گیا تو قبیلے والوں نے اُن کی ضِیافت نہ کی، اِسی دوران قبیلے کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، قبیلے والوں نے اہلِ قافلہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اِس کاٹے کا دَم یا دَوَا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’ چونکہ تم لوگوں نے حق ِضیافت ادا نہ کیا اس ‏لیے جب تک ہمارے ‏لیے کچھ مقرر نہ کرو ہم علاج نہیں کریں گے ۔ ‘‘ چنانچہ قبیلے والوں نے کچھ بکریاں دینا منظور کر لیں ۔ پس ایک صحابی نے درد والی جگہ پر اپنا لعاب لگایا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تودَرد فوراً ختم ہوگیا ۔ پس قبیلے والے مقرر ہ بکریاں لے آئے ۔مگر صحابۂ کرام نے کہا کہ جب تک ہم اپنے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نہ پوچھ لیں اُس وقت تک نہ لیں گے ۔جب حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے معاملہ پیش کیا گیا تو آپ مسکرائے اورفرمایا: ’’ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ سے دَم کیا جاتا ہے؟ بہر حال تم وہ بکریاں لے لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ ‘‘نظرکا دَم کرنے کا حکم:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ مجھے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا کہ نظر لگنے کا دم کیا کرو۔ ‘‘زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنا:حضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن اَسْوَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر زہریلے جانور کے کاٹے پر دَم کرنے کی اِجازت مَرحَمَت فرمائی ہے۔ ‘‘سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دَم کرنا:حضرتِ سَیِّدُنا عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سَیِّدُنَااَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہوئے توحضرت سَیِّدُنَاثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اُن سے عرض کی: ’’ اے ابو حمزہ ! میں بیمار ہوں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَااَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ کیا میں تمہیں وہ دَم نہ کروں جو رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا کرتے تھے؟ ‘‘ عرض کی: ’’ کیوں نہیں ۔ ‘‘ توحضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ دعا پڑھ کر اُنہیں دَم کیا:’’اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْھِبَ الْبَاسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِی اِلَّااَنْتَ شِفَآءً لَا یُغَادِرُسَقَمًایعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اے لوگوں کے ربّ! اے تکالیف کو دُور کرنے والے!شفا عطافرما، توہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ، ایسی شفا عطا فرما جو اپنے بعد بیماری نہ چھوڑے ۔ ‘‘حضرت جبریلعَلَیْہم السَّلَامکا دم کرنا:اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ جب حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیمار ہوئے تو حضرت جبریلعَلَیْہم السَّلَامنے آکر اِن کلمات کے ساتھ دم کیا: ’’بِسْمِ اللہِ یُبْرِیْکَ وَمِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ وَمِنْ شَرِّحَاسِدِِاِذَاحَسَدَوَشَرِّ کُلِّ ذِی عَیْنٍیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے وہ آپ کو تندرست کر دے گا اور ہر بیماری سے شفا عطا فرمائے گااور ہر حاسِد کے حَسَد سے جب و ہ حَسَد کرے اور نظر لگانے والی آنکھ سے محفوظ رکھے گا۔ ‘‘حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے اہلِ خانہ پر دم کرنا:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ ’’ جب رسولِ اَکرم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہلِ خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آ پصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُعَوَّذَات(یعنی سورۃالفلق اورسورۃ الناس) پڑھ کر اُس پر دَم کرتے۔ پھرجب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مرضِ وفات لاحِق ہوا تو میں آپ پر دَم کرتی اور آپ کے دست مبارک کو آپ پر پھیرتی، کیونکہ آپ کے دستِ مبارک میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔ ‘‘تعویذات میں کوئی حرج نہیں :فقہ حنفی کی مشہور و معتبر کتاب”رَدُّالمحتار“ میں ہے: ’’ جو تعویذ قرآن پاک یااللہ عَزَّ وَجَلَّکے اَسمائے مبارکہ سے لکھے جائیں اُن میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ بہارِ شریعت میں ہے: ’’ گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یااَسماءِ اِلٰہیَّہ یا اَدْعِیَّہ(دُعاؤں ) سے تعویذ کیا جائے اور بعض حدیثوں میں جو مُمَانَعَت آئی ہے اُس سے مُراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز اَلفاظ پر مشتمل ہوں ، جو زمانۂ جاہلیت میں کیے جاتے تھے۔اِسی طرح تعویذات اور آیات اور اَحادیث واَدْعِیَّہ کو رِکابی (یعنی پلیٹ) میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شِفا پلانا بھی جائز ہے۔ ‘‘دعوتِ اسلامی اور مجلس تعویذات عطاریہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی تادم تحریر ۹۵ سے زائد شعبہ جات میں دین کی تبلیغ اور نیکی کی دعوت میں مصروفِ عمل ہے، اِن شعبوں میں ایک شعبہ مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ بھی ہے۔ اِس شعبے میں پیارے آقا مدینے والے مُصْطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دُکھیاری اُمَّت کی غمخواری کے لیےکثیر اِسلامی بھائی (جنہیں مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کی جانب سے اِجازت اور تربیت حاصل ہے) مختلف بستوں پر روزانہ کم وبیش ایک لاکھ پچیس ہزار مریضوں کو چار لاکھ سے زائد تعویذات واَورادِ عطاریہ دینے میں مصروف عمل ہیں ۔ نیز اِسی شعبے کے تحت مدنی چینل پر نشر کیے جانے والے سلسلے ’’ روحانی علاج ‘‘ میں بھی کثیراَفراد کواَوْرَاد ووَظائف بتا کر غمخواری کیجاتی ہے۔ اگر آپ بھی کسی جسمانی یا رُوحانی مرض میں مبتلا ہیں ، کسی پریشانی یا مُصِیْبَت کا شکار ہیں تو اپنے علاقے میں تعویذاتِ عطاریہ کے بستے پر تشریف لائیے اور وہاں سے تعویذاتِ عطاریہ حاصل کرکے اُنہیں بتائے گئے طریقے کے مطابق اِستعمال کیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّربّ تعالی کی رحمت سے شفا نصیب ہوگی، نیز ہر قسم کی تکالیف اور پریشانیوں سے بچنے کے لیے دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوجائیے، اپنی زندگی کو سنتوں کے سانچے میں ڈھال لیجئے، مدنی انعامات پر عمل کیجئے، مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنالیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّاِس کی برکت سے دُنیوی تکالیف اور پریشانیاں دُور ہوجائیں گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’ بُخارِی ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) تمام انبیاءِ کرام
عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور اُن کے سب اُمَّتی ہمارے پیارے نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیشِ نظر ہیں ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔
(3) بد شگونی ناجائز وممنوع ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہتا ہے، اُس کے حکم کے بغیر درخت کا ایک پَتّابھی نہیں ہِل سکتا ۔
(4) جو جھاڑ پھونک غیر شرعی کلمات کے ذریعے ہو وہ منع ہے ۔جبکہ آیات قرآنیہ اور اَسمائے اِلٰہیَّہ کے ذریعے کیا گیا دم نا صرف جائز بلکہ باعث ِخیر وبرکت ہے۔
(5) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوشفیع ومستجابُ الدَّعَوَات مانتے تھے جبھی تو اپنی دنیا وآخرت کی بہتری کے ‏لیے آپ کی بارگاہ میں حاضری دیتے اور دعائیں کرواتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہماری دنیاوآخرت بہتر بنائے ، ہمیں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 74