Main Icon

باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 680

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوْسَى الْاَشْعَر ِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمّی فَقَالَ اَحَدُهُمَا:يَارَسُوْلَ اللَّه اَمِّرْنَا عَلى بَعْضِ مَاوَلَّاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ الْاٰخَرُ مِثْلَ ذٰلِكَ فَقَالَ: اِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَ لِّي هٰذَاالْعَمَلَ اَحَدًا سَاَ لَهُ اَوْ اَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ.

عن ابي موسى الاشعر ي رضي الله عنه قال:دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم انا ورجلان من بني عمی فقال احدهما:يارسول الله امرنا على بعض ماولاك الله عز وجل وقال الاخر مثل ذلك فقال: انا والله لا نو لي هذاالعمل احدا سا له او احدا حرص عليه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالیٰ عَنْہُسے مَروی ہے کہ میں اور میرے دو چچا زاد بھائی حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمکی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے توان میں سے ایک نےعرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !جن علاقوں کی حکومت اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو سونپی ہے انمیں سے کسی پرہمیں بھی امیر مقرر کیجئے۔اسی طرح دوسرے نے بھی کہا۔تو رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!ہم اس عمل(یعنی حکومتی عہدہ) پر ایسے کسی شخص کو والی نہیں بناتے جو اس کاطلبگار یا حریص ہو۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک میں حکومتی عہدوں کی طلب وحرص سے روکا گیا ہے کہ جوشخص کسی حکومتی عہدے کا طلبگار یاحریص ہواسے یہ عہدہ نہ دیا جائے۔ملکی وملی نظام کے انتظام و انصراف کے لئے حکومتی عہدہ داروں کا ہونا ناگزیر ہے مگر ان عہدوں کے حق دار وہی ہیں جو ان کی ذمہ داری نبھا سکیں،جو خوفِ خدا وعشقِ مصطفےٰسے معمور ہوں اوراس عہدے کے طالِب وحریص نہ ہوں۔ پھر اگر انہیں بغیر طلب اتفاق رائے سے حاکم ووالی بنایا جائے تویہ عدل وانصاف کے تقاضے پورے کریں، رعایا کے ساتھ خیر خواہی کریں، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں جیسا کہ خلفاء راشدینرِضْوَانُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْناور دیگر نیک اسلامی حکمرانوں نے حکومتی نظام سنبھالا اور ایسا سنبھالا کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔منصب کی طلب کا حکم:
*
عمدۃ القاری میں ہے:”علامہ ابن بطالرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ منصب کی طلب چونکہ حرص پر دلالت کرتی ہے لہٰذا لازم ہے کہ جو حکومتی منصب کا حریص ہو اسےعہدہ نہ دیا جائے۔علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو طلب منصب سے منع فرمایا ہے اس کا ظاہری حکم یہی ہے کہ منصب کی طلب مکروہ تحریمی ہے۔“*فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس منع سے تحریم ظاہر ہے ۔تحریم نہ بھی ہواس سے احتراز ضروری ہے مگر یہ اس وقت ہے جبکہ اس کام کے اہل بہت سے لوگ ہیں لیکن اگر صورت حال یہ ہو کہ اہل صرف ایک ہی شخص ہو اور اس کو معلوم ہے دوسرا اہل نہیں تو سوال (یعنی منصب کی طلب)بھی واجب اور قبول کرنا بھی واجب۔‘‘*مرآۃ المناجیح میں ہے:”دنیاوی امارت و حکومت طلب کرنا ممنوع ہے مگر دینی امارت طلب کرنا عبادت ہے،رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم سے دعا کیا کرو کہ:(وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴))(پ۱۹، الفرقان:۷۴) خداوند ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔خیال رہے کہ سلطنت،حکومت،نفسانی خواہش، دنیاوی مال،عزت کی لالچ سے طلب کرنا حرام ہے کہ ایسے طالبِ جاہ لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے ہیں مگر جب نااَہل سلطان یا حاکِم بن کر ملک کو بربادکررہے ہوں یا برباد کرنا چاہتے ہوں تو دِین و ملک کی خدمت کے لیے حکومت چاہنا حاصل کرنا ضروری ہے۔“
علامہ سید محموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس سلسلہ کی تمام احادیث ،تعامل صحابہ وآئمہ دین کی تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو عہدہ دینا (جو اس کا اہل نہ ہو اور حرص کے مرض میں مبتلا ہو اور اس کے کردار سے واضح ہو کہ عہدہ کے فرائض کو دیانتداری سے ادا نہیں کرے گا )جائز نہیں ہے۔ بہر حال جو شخص عہدہ اور منصب کے تقاضوں کو سمجھتا ہے اور اپنے فرائض منصبی کو دیانت داری سے ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے تو اسے عہدہ طلب کرنا جائز ہے اور ایسے باصلاحیت اور محب وطن افراد کو کسی منصب پر فائز کرنا بھی جائز ہے ۔“طالب وحریص کو عہدہ نہ دینے کی حکمت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حکومتی عہدے کےطالب اور حریص کو عہدہ دینے کی ممانعت اس لئے ہے کہ اس کی طلب و حرص اس بات کی علامت ہے وہ عہدہ ملنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے نفع کے لئے کوئی کوشش نہ کرے گابلکہ ا س کی کوشش اپنے ذاتی نفع یعنی محض دنیوی مال کے حصول و اضافے کے لئے ہوگی اور اس میں لوگوں کے دنیاوی واخروی معاملات کانقصان ہےبلکہ خود اس کے لئے بھی ہلاکت ہے۔مدنی گلدستہ’’اِسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ملکی وملی نظام کے انتظام و اِنصراف کے لئے حکومتی عہدہ داروں کا ہونا ناگزیر ہے مگر ان عہدوں کے حق دار وہی ہیں جو ان کی ذمہ داری نبھا سکیں۔
(2) جوشخص کسی حکومتی عہدے کا طلبگار یاحریص ہواسے یہ عہدہ نہ دیا جائے۔
(3) حکومتی منصب کا اہل اگر ایک شخص ہو اور اس کو معلوم ہے دوسرا اہل نہیں تواسے منصب کی طلب کرناواجب ہے ۔
(4) جو شخص عُہدہ اور منصب کے تقاضوں کو سمجھتا ہے اور اپنے فرائض منصبی کو دیانت داری سے ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے تو اسے عہدہ طلب کرنا جائز ہے۔
(5) حکومت کی خواہش قیامت کے دن باعِثِ ندامت ہوگی۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حکومتی عہدہ کی خواہش اور اس کی طلب سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 680