- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- حدیث نمبر 1009
باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1009
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبي سَعِيْدٍ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَلَا اُعَلِّمُكَ اَعْظَمَ سُورَةٍ فِی الْقُرْآن قَبْلَ اَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ فَاَخَذَ بِيَدِيْ فَلَمَّا اَرَدْنَا اَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اِنَّكَ قُلْتَ:لَاُعَلِّمَنَّكَ اَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ المَثَانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِيْمُ الَّذِي اُوْتِيْتُهُ.
عن ابي سعيد رافع بن المعلى رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:الا اعلمك اعظم سورة فی القران قبل ان تخرج من المسجد؟ فاخذ بيدي فلما اردنا ان نخرج قلت: يا رسول الله انك قلت:لاعلمنك اعظم سورة في القران قال: الحمد لله رب العالمين هي السبع المثاني والقران العظيم الذي اوتيته.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابو سعید رافع بن مُعَلّٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآنِ کریم کی عظیمُ الشان سورت نہ بتاؤں؟‘‘پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرا ہاتھ پکڑلیا اور جب ہم باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی عظیم الشان سورت بتاؤں گا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱)﴾(یعنی سورۂ فاتحہ) یہ سات آیات ہیں جو باربار پڑھی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔“
شرح حدیث
سارے قرآن کے مضامین والی سورت:”کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآنِ کریم کی عظیم الشان سورت نہ بتاؤں؟“مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”پہلے سے یہ فرماکر منتظر بنادیا تاکہ خوب یاد رکھیں جو بات انتظار کے بعد ملےاس کی قدر ہوتی ہے۔“ مزید فرماتے ہیں:”سورت قرآن شریف کا وہ حصہ ہے جس میں مضمون مکمل ہو اور اس کا نام بھی ہو۔ یہاں (صاحبِ ) مرقات نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں کے مضامین قرآن شر یف میں ہیں اور سارے قرآن شریف کے مضامین سورۂ فاتحہ میں اور ساری سورۂ فاتحہ کے مضامینبِسْمِ اﷲمیں اور ساریبِسْمِ اﷲکے مضامین اس کے” ب“ کے نقطہ میں۔ دیکھو ریلوے ٹائم ٹیبل یا جغرافیہ میں پورے ملک یا پورے شہر کی طرف ایک نقطہ سے اشارہ کردیا جاتا ہے۔اس لیے حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سورۂ فاتحہ کو بڑی سورہ فرمایا اور ہر رکعت میں یہ دُہرائی جاتی ہے۔حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنا وعدہ یاد تھا مگر آپ نے ابتداءً نہ تعلیم دی تاکہ ان کے اپنے شو ق کا پتہ لگےکہ انہوں نے یہ بات یاد رکھی یا نہیں اور ان کا شوق پورا ہےیا نہیں۔خلاصۂ فرمان یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ بہت سی خوبیوں کی جامع سورت ہے اس میں حمدِ الٰہی، نعتِ پاکِ مُصطفوی،وعدے وعیدیں،حشر و نشر کا ذکر،محبوب و مردود بندوں کا تذکرہ،ربّ تعالیٰ سے سوال کی تعلیم، دِینِ برحق کی پہچان وغیرہ تمام مضامین ہیں۔اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز کی ہر رکعت میں دُہرائی جاتی ہیں اِن کا نزول دوبار ہوا، ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد۔ یہ سورۃ سات حرفوں سے خالی ہے: ث، ج، خ، ز،ش،ظ،ف، لہٰذا یہ سبع مثانی ہے یعنی سات مقرر آیتیں۔نیز یہ سورت اِس اُمَّت کی خصوصیات سے ہے کسی کو ہم سے پہلے نہ ملی۔اس لیے رب تعالیٰ نے اس کی عطا کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کہ ارشاد ہوا:﴿وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ(۸۷)﴾(پ۱۴،الحجر:۸۷)(ترجمۂ کنزالایمان :اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔)اگرچہ قرآنِ پاک میں یہ سورت بھی تھی مگر اس کاذِکرمستقل طورپرفرمایا۔“بعض سورتیں بعض سے افضل ہیں:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس حدیث سے اِستدلال کیا گیا ہے کہ قرآن کی بعض سورتیں بعض سے افضل ہیں۔(امام ابو الحسن)اشعری (رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ)اور علما کی ایک جماعت نے اسے منع کہا ہےکیونکہ مفضول (جس پر فضیلت دی گئی ہے)افضل کے مرتبہ سے ناقص ہوتا ہے اوراﷲ تعالیٰکے اسماء،صفات اور اس کے کلام میں قطعاً کوئی نقص نہیں ہے۔ لہٰذا قرآن کے بعض کو افضل اور بعض کو مفضول کہنا منع ہے۔بعض علما ء نے اس کا جواب دیا کہ فاتحہ کی افضلیت ثواب اور نفع کے اعتبار سے ہے معنیٰ اور صفت کے لحاظ سے نہیں۔شیخ (نور الحق)دہلوی (رَحْمَۃُ اﷲ عَلَیْہ)نے” تیسیر القاری“میں ذکر کیا یہ بات مخفی نہیں کہ جو لوگ بعض سورتوں کو افضل کہتے ہیں ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ اکثریتِ ثواب میں افضل ہیں اور عرف میں مشہور ومعروف بھی یہی ہے وہ یہ نہیں کہتے کہ نفس ذات اوراﷲکا کلام اور اس کی صفتِ ذاتیہ ہونے میں بعض افضل ہیں اس کا کوئی عالِمِ دِین اورعَارِف باللّٰہقائل نہیں۔سورۂ فاتحہ کے3 فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنَا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا اور اس نےسَیِّدُالْمُرْسَلِیْنصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں سلام پیش کر کے عرض کی:یَارَسُوْلَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو اُن دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کے علاوہ اور کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے اوروہ دو نور یہ ہیں : (۱)’’سورۂ فاتحہ‘‘ اور(۲)’’سورۂ بقرہ‘‘ کی آخری آیتیں۔( )(2)حضرت اُبی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور پُر نورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اﷲ تعالیٰنے تورات اور انجیل میں’’اُمُّ الْقُرْآنْ‘‘(یعنی سورتِ فاتحہ)کی مثل کوئی سورت نازل نہیں فرمائی۔‘‘(3)حضر ت سَیِّدُنَاعبد الملک بن عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سورۂ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفا ہے۔“مدنی گلدستہ’’فاتحہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) سورت قرآن شریف کا وہ حصہ ہے جس میں مضمون مکمل ہو اور اس کا نام بھی ہو۔
(2) سارے قرآن شریف کے مضامین سورۂ فاتحہ میں اور ساری سورۂ فاتحہ کے مضامینبِسْمِ اﷲمیں اور ساریبِسْمِ اﷲکے مضامین اس کے” ب“کے نقطہ میں ہیں۔
(3) سورتِ فاتحہ بہت سی خوبیوں کی جامع سورت ہے اس میں حمدِ اِلٰہی، نعتِ پاکِ مُصطفوی، وعدے وعیدیں، حشر و نشر کا ذِکر،محبوب و مَردُود بندوں کا تذکرہ،ربّ تعالیٰ سے سوال کی تعلیم،دین برحق کی پہچان وغیرہ تمام مضامین ہیں۔
(4) قرآن کی بعض سورتیں فضائل وثواب کے اعتبار سے بعض سے افضل ہیں۔
(5) سورتِ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفاہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں سورۂ فاتحہ کے فضائل سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1009