Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1009

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي سَعِيْدٍ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَلَا اُعَلِّمُكَ اَعْظَمَ سُورَةٍ فِی الْقُرْآن قَبْلَ اَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ فَاَخَذَ بِيَدِيْ فَلَمَّا اَرَدْنَا اَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اِنَّكَ قُلْتَ:لَاُعَلِّمَنَّكَ اَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ المَثَانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِيْمُ الَّذِي اُوْتِيْتُهُ.

عن ابي سعيد رافع بن المعلى رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:الا اعلمك اعظم سورة فی القران قبل ان تخرج من المسجد؟ فاخذ بيدي فلما اردنا ان نخرج قلت: يا رسول الله انك قلت:لاعلمنك اعظم سورة في القران قال: الحمد لله رب العالمين هي السبع المثاني والقران العظيم الذي اوتيته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو سعید رافع بن مُعَلّٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآنِ کریم کی عظیمُ الشان سورت نہ بتاؤں؟‘‘پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرا ہاتھ پکڑلیا اور جب ہم باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی عظیم الشان سورت بتاؤں گا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱)﴾(یعنی سورۂ فاتحہ) یہ سات آیات ہیں جو باربار پڑھی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔“

شرح حدیث

سارے قرآن کے مضامین والی سورت:”کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآنِ کریم کی عظیم الشان سورت نہ بتاؤں؟“مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”پہلے سے یہ فرماکر منتظر بنادیا تاکہ خوب یاد رکھیں جو بات انتظار کے بعد ملےاس کی قدر ہوتی ہے۔“ مزید فرماتے ہیں:”سورت قرآن شریف کا وہ حصہ ہے جس میں مضمون مکمل ہو اور اس کا نام بھی ہو۔ یہاں (صاحبِ ) مرقات نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں کے مضامین قرآن شر یف میں ہیں اور سارے قرآن شریف کے مضامین سورۂ فاتحہ میں اور ساری سورۂ فاتحہ کے مضامینبِسْمِ اﷲمیں اور ساریبِسْمِ اﷲکے مضامین اس کے” ب“ کے نقطہ میں۔ دیکھو ریلوے ٹائم ٹیبل یا جغرافیہ میں پورے ملک یا پورے شہر کی طرف ایک نقطہ سے اشارہ کردیا جاتا ہے۔اس لیے حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سورۂ فاتحہ کو بڑی سورہ فرمایا اور ہر رکعت میں یہ دُہرائی جاتی ہے۔حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنا وعدہ یاد تھا مگر آپ نے ابتداءً نہ تعلیم دی تاکہ ان کے اپنے شو ق کا پتہ لگےکہ انہوں نے یہ بات یاد رکھی یا نہیں اور ان کا شوق پورا ہےیا نہیں۔خلاصۂ فرمان یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ بہت سی خوبیوں کی جامع سورت ہے اس میں حمدِ الٰہی، نعتِ پاکِ مُصطفوی،وعدے وعیدیں،حشر و نشر کا ذکر،محبوب و مردود بندوں کا تذکرہ،ربّ تعالیٰ سے سوال کی تعلیم، دِینِ برحق کی پہچان وغیرہ تمام مضامین ہیں۔اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز کی ہر رکعت میں دُہرائی جاتی ہیں اِن کا نزول دوبار ہوا، ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد۔ یہ سورۃ سات حرفوں سے خالی ہے: ث، ج، خ، ز،ش،ظ،ف، لہٰذا یہ سبع مثانی ہے یعنی سات مقرر آیتیں۔نیز یہ سورت اِس اُمَّت کی خصوصیات سے ہے کسی کو ہم سے پہلے نہ ملی۔اس لیے رب تعالیٰ نے اس کی عطا کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کہ ارشاد ہوا:﴿وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ(۸۷)﴾(پ۱۴،الحجر:۸۷)(ترجمۂ کنزالایمان :اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔)اگرچہ قرآنِ پاک میں یہ سورت بھی تھی مگر اس کاذِکرمستقل طورپرفرمایا۔“بعض سورتیں بعض سے افضل ہیں:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس حدیث سے اِستدلال کیا گیا ہے کہ قرآن کی بعض سورتیں بعض سے افضل ہیں۔(امام ابو الحسن)اشعری (رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ)اور علما کی ایک جماعت نے اسے منع کہا ہےکیونکہ مفضول (جس پر فضیلت دی گئی ہے)افضل کے مرتبہ سے ناقص ہوتا ہے اوراﷲ تعالیٰکے اسماء،صفات اور اس کے کلام میں قطعاً کوئی نقص نہیں ہے۔ لہٰذا قرآن کے بعض کو افضل اور بعض کو مفضول کہنا منع ہے۔بعض علما ء نے اس کا جواب دیا کہ فاتحہ کی افضلیت ثواب اور نفع کے اعتبار سے ہے معنیٰ اور صفت کے لحاظ سے نہیں۔شیخ (نور الحق)دہلوی (رَحْمَۃُ اﷲ عَلَیْہ)نے” تیسیر القاری“میں ذکر کیا یہ بات مخفی نہیں کہ جو لوگ بعض سورتوں کو افضل کہتے ہیں ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ اکثریتِ ثواب میں افضل ہیں اور عرف میں مشہور ومعروف بھی یہی ہے وہ یہ نہیں کہتے کہ نفس ذات اوراﷲکا کلام اور اس کی صفتِ ذاتیہ ہونے میں بعض افضل ہیں اس کا کوئی عالِمِ دِین اورعَارِف باللّٰہقائل نہیں۔سورۂ فاتحہ کے3 فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنَا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا اور اس نےسَیِّدُالْمُرْسَلِیْنصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں سلام پیش کر کے عرض کی:یَارَسُوْلَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو اُن دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کے علاوہ اور کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے اوروہ دو نور یہ ہیں : (۱)’’سورۂ فاتحہ‘‘ اور(۲)’’سورۂ بقرہ‘‘ کی آخری آیتیں۔( )(2)حضرت اُبی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور پُر نورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اﷲ تعالیٰنے تورات اور انجیل میں’’اُمُّ الْقُرْآنْ‘‘(یعنی سورتِ فاتحہ)کی مثل کوئی سورت نازل نہیں فرمائی۔‘‘(3)حضر ت سَیِّدُنَاعبد الملک بن عمیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سورۂ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفا ہے۔“مدنی گلدستہ’’فاتحہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) سورت قرآن شریف کا وہ حصہ ہے جس میں مضمون مکمل ہو اور اس کا نام بھی ہو۔
(2) سارے قرآن شریف کے مضامین سورۂ فاتحہ میں اور ساری سورۂ فاتحہ کے مضامین
بِسْمِ اﷲمیں اور ساریبِسْمِ اﷲکے مضامین اس کے” ب“کے نقطہ میں ہیں۔
(3) سورتِ فاتحہ بہت سی خوبیوں کی جامع سورت ہے اس میں حمدِ اِلٰہی، نعتِ پاکِ مُصطفوی، وعدے وعیدیں، حشر و نشر کا ذِکر،محبوب و مَردُود بندوں کا تذکرہ،ربّ تعالیٰ سے سوال کی تعلیم،دین برحق کی پہچان وغیرہ تمام مضامین ہیں۔
(4) قرآن کی بعض سورتیں فضائل وثواب کے اعتبار سے بعض سے افضل ہیں۔
(5) سورتِ فاتحہ ہر مرض کے لیے شفاہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں سورۂ فاتحہ کے فضائل سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1009