Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 901

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا اشْتَكىَ الْاِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، اَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ اَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاُصْبُعِهِ هٰكَذَا وَوَضَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الرَّاوِي سَبَّابَتَهُ بِالْاَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ اَرْضِنَا، بِرِ يْقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيْمُنَا باِذْنِ رَبِّنَا.

عن عائشة رضی اللہ عنہا ان النبي صلى الله عليه وسلم کان اذا اشتكى الانسان الشيء منه، او كانت به قرحة او جرح، قال النبي صلى الله عليه وسلم باصبعه هكذا ووضع سفيان بن عيينة الراوي سبابته بالارض ثم رفعها وقال: بسم الله، تربة ارضنا، بر يقة بعضنا، يشفى به سقيمنا باذن ربنا.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ جب کوئی شخص حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کسی بیماری کی شکایت کرتا یا اُسے کوئی زخم یا پھوڑا ہو جاتا تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی انگلی سے اِس طرح اِشارہ کرتے ہوئے فرماتے(پھرحدیث کے ایک راوی حضرت سفیان بن عیینہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اٹھائی):”اللّٰہکے نام سے، ہماری زمین کی مٹی جو ہمارے بعض کے لعاب سے ملی ہوتی ہے،بحکم پروردگار اِس سے ہمارے مریض کو شفادی جاتی ہے۔‘‘

شرح حدیث

خاکِ مدینہ میں شفا ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”( نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممریض کودم کرتے وقت)اَوَّلاً آپ مرض کی جگہ انگلی رکھتے پھر انگلی پر کچھ لعاب شریف لگا کر مٹی لگاتے، پھر اس کا لیپ مرض کی جگہ کر دیتے اور یہ فرماتے جاتے کہ بفضلہٖ تعالیٰ ہمارا لُعاب اور مدینہ کی مٹی شفاہے۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:*∞ایک یہ کہ بیماری پر ٹوٹکے اور منترجائز ہیں بشرطیکہ اس کے الفاظ کفریہ نہ ہوں اورکوئی کام حرام نہ ہو، اس کی اصل یہ حدیث بھی ہے اور وہ بھی کہ نظر بدمیں نظر والے کے ہاتھ پاؤں کو دھلاکر بیمارکو چھینٹا مار دو، شامی نےنظر اور جادو دفع کرنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے ہیں۔*∞دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا لعاب شریف شفا ہے، بعض صوفیا دم کرتے وقت کچھ لعاب بھی ڈال دیتے ہیں، اس کی اصل یہ حدیث ہے۔*∞تیسرے یہ کہ مدینہ پاک کی مٹی شفا ہے وہاں کی خاک کو جو خاکِ شفا کہا جاتا ہے، اس کی اصل یہ حدیث ہے۔“مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”بے شک! مدینہ کی مٹی خاک شفا ہے اسی طرح ہر شخص کے لیے اس کے وطن کی مٹی میں بھی شفا ہوتی ہے۔چنانچہ علما فرماتے ہیں کہ مسافر کو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے بچانے اور مزاج کو اپنی حالت پر برقرار رکھنے کے لیے اپنے وطن کی مٹی بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ مسافر اگر اپنے علاقہ کا پانی سفر پر ساتھ نہیں لے جاسکتا تو اس کے لیے مناسب ہے کہ تھوڑی سی مٹی اپنے ساتھ رکھ لے اور جہاں بھی پانی پئے تھوڑی سی مٹی پانی کے برتن میں ڈال دے اور پھر پانی پئے اس کی وجہ سے آب و ہوا بدلنے سے جو بیماریاں لگتی ہیں ان سے محفوظ رہے گا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 901