Main Icon

باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1229

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”تَسَحَّرُوا فَاِنَّ في السُّحُورِ بَرَكَةً.“

عن انس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”تسحروا فان في السحور بركة.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”سحری کرو بے شک سحری میں برکت ہے۔“

شرح حدیث

سحری مبارک کھانا ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان فرمایا گیا کہ سحری میں برکت ہے، اس میں ہمارے لئے ترغیب ہے کہ ہم بغیر سحری روزہ نہ رکھیں، کیونکہ سَحَری میں بہت سی حکمتیں ہیں اُن میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ روزہ رکھنے پر قوت حاصل ہو۔علامہ ابنِ منذر کہتے ہیں کہ اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ سحری کرنا مستحب ہے، اس کے چھوڑنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ سرکارعَلَیْہِ السَّلَامنے سحری کرنے کی ترغیب دلائی ہے تاکہ روزہ رکھنے والوں کو قوت حاصل ہوجائے۔حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”سحری کھاکر روزے پر اور قیلولہ کرکے رات کے قیام پر مدد حاصل کرو۔“حضرت عرباض بن ساریہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت میں ہے کہ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سحری کو مبارک کھانا فرمایا۔مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یہ حکم اِستحبابی ہے نہ کہ وجوبی کیونکہ روزہ کے لیے سحری مُسْتَحَب ہے واجب یا فرض نہیں۔صبح سے پہلے کے وقت کو سحر کہتے ہیں اور اس وقت کھانے یا پینے کو سحری یعنی آخر رات کی غذا،سحری کا وقت آدھی رات سے شروع ہوجاتا ہے مگر سنت یہ ہے کہ رات کے آخری چھٹے حصے میں کھائی جائے۔ سحری کا کھانا مبارک ہے اور اس کھانے کے استعمال میں برکت ہےکیونکہ یہ سنت ہے اور سنت مبارک ہے، نیز اس کھانے سے روزے میں مدد ملتی ہے،نیز اس کھانے کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں وکفار کے روزوں میں فرق ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ علما سے روشنائی،دوپہری میں قدرے آرام کرنا،روزوں میں سحری کھانا سب مبارک ہیں کہ ان کا تعلق عبادات سے ہے جب عبادت کے تعلق سے عادت مبارک بن جاتی ہے تو دنیا دِین ہوجاتی ہے تو حضرات انبیا و اولیا سے جس چیز کو نسبت ہوجائے وہ بھی یقیناً مبارک ہو جاتی ہے،دیکھو شبِ قدرمبارک، ماہِ رمضان مبارک ہےکیونکہ انہیں عبادتوں سے تعلق ہے،عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے متعلق فرمایا تھا:وَجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًامجھےاﷲنے مبارک بنایا، یہ حضرات بذاتِ خود مبارک ہیں اور اُن کی طرف منسوب چیزیں ان کی وجہ سے مبارک۔‘‘مدنی گلدستہ’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) سحری میں برکت ہے۔
(2) سحری میں کئی حکمتیں ہیں ان میں سے ایک روزہ پر قوت حاصل کرنابھی ہے۔
(3) حضور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سحری کو مبارک کھانا فرمایا۔
(4) حضرات انبیا و اولیا سے جس چیز کو نسبت ہوجائے وہ بھی یقیناً مبارک ہو جاتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سحری کی برکات سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1229