Main Icon

باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1254

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ اَيُّوْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَهُ سِتًّا مِّنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ .

عن ابي ايوب رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ایوبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال میں چھ روزے رکھےتو ایسا ہے جیسے دہر (یعنی عمر بھر )کےروزے رکھے۔“

شرح حدیث

شوال کے چھ روزے کب رکھے جائیں :صدرالشریعہ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیشوال کے چھ روزوں کے متعلق فرماتے ہیں:”بہتر یہ ہے کہ یہ روزے متفرق(یعنی شوال کے مختلف دنوں میں)رکھے جائیں اور عید کے بعد لگاتار چھ دن میں ایک ساتھ رکھ لیے، جب بھی حرج نہیں۔ “حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان قادِری برکاتیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْہَادِیفرماتے ہیں: ”یہ روزے عید کے بعد لگاتار رکھے جائیں تب بھی مضایقہ نہیں اور بہتریہ ہے کہ متفرق (دنوں میں ) رکھے جائیں یعنی ہر ہفتہ میں دو روزے اور عید الفطر کے دوسرے روز ایک روزہ رکھ لے اور پورے ماہ میں رکھے تو اوربھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔اَلْغَرَض عید الفطرکا دن چھوڑ کر سارے مہینے میں جب چاہیں شش عید کے روزے رکھ سکتے ہیں ۔شوال کے چھ روزوں کے فضائل پردوفرامینِ مصطفےٰ:(1)”جس نے عید الفطر کے بعد(شوال میں ) چھ روزے رکھ لیےتو اس نے پورے سال کے روزے رکھے کہ جو ایک نیکی لائے گا اسے دس ملیں گی۔“ (2)”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوجائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“
¥مدنی گلدستہ
’’عيد‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) رمضان کے بعد شوال میں چھ روزوں کا ثواب ایسا ہے جیسے عمر بھر کے روزوں کاثواب۔
(2) جس عملِ خیر میں جتنی زیادہ مشقت ہوتی ہے اس کااجر بھی اتناہی زیادہ بڑھ جاتاہے۔
(3) بہتر یہ ہے کہ شوال المکرم کے چھ روزے عید الفطر کے بعد مختلف دنوں میں رکھیں اور اگر لگار تار رکھ لئے توبھی کوئی مضایقہ نہیں ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہےکہ وہ ہمیں رمضان المبارک کے روزوں کے بعدشوال المکرم کے چھ روزے رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1254