Main Icon

باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1002

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰى رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَعَاهَدُوْا هٰذَا القُرْآنَ فَوَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ اَشَدُّ تَفَلُّتًامِّنَ الْاِبِلِ فِیْ عُقُلِهَا.

عن ابی موسى رضی اللہ عنہ عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: تعاهدوا هذا القران فوالذي نفس محمد بيده لهو اشد تفلتامن الابل فی عقلها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اِس قرآن کی حفاظت کرو، اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! یہ قرآن رسّی میں بندھے ہوئے اونٹ سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے (یعنی بھول جاتا ہے)۔“

شرح حدیث

قرآن اور علومِ قرآن کی تکرار کرتے رہو:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جسے قرآنِ پاک یاد ہو اسے چاہیے کہ وہ اس کی حفاظت کرے اور اسے یاد رکھنے کے لیے کثرت کے ساتھ اس کی دُہرائی کرتا رہے۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ ”تَعَاهَدُوْا هٰذَا القُرْآنَیعنی اِس قرآن کی حفاظت کرو۔‘‘تَعَاھَدٌ،عَہْدٌسے بنا ہے بمعنیٰ حفاظت و نگرانی ۔مضبوط وعدے کو بھی اسی لیے عہد کہتے ہیں کہ اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔قرآنِ شریف کی نگرانی کرنے سے مراد ہے اس کا دَورکرتے رہنا، اس کی تلاوت کی عادت ڈالنا، خصوصًا حافظ صاحبان کے لیے۔ ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد اَلفاظِ قرآن، معانیٔ قرآن، علومِ قرآن اور مسائلِ قرآن سب ہی ہے یعنی حُفَّاظ اپنے حفظ کی، قاری صاحبان تجوید کی، علما عُلومِ قرآنیہ کی تجدید و تکرار کرتے رہیں ورنہ بھول جانے کا اندیشہ ہے۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”قراءت اور تلاوت کو اپنی عادت بناؤ اور اس کی حفاظت و نگہداشت کرو تاکہ دِلوں سے اُتر نہ جائے اور بھول نہ جائے۔ یہاں حدیث میں لفظتَعَاھَدٌآیا ہے جس کا معنیٰ ہے دو شخصوں کا آپس میں کسی معاہدے کو تازہ کرنا اور اُس کا ذکر کرنا۔ دراصل حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد میں اس جانب اشارہ ہے کہ بندہ جب قرآن سے کیا ہوا عہد تازہ رکھتا ہے اور درس و تدریس کی شکل میں اس کی خدمت میں لگا رہتا ہے تو یہ شخص گویا قرآنِ پاک سے کیے ہوئے عہد کی نگہداشت اور حفاظت کرتا ہے۔“کلامِ الٰہی حفظ ہوجانا رب کی مہربانی ہے:حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا کہ قرآن رسّی میں بندھے ہوئے اونٹ سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے ”یعنی رسیوں سے بندھے ہوئے اونٹ رسیوں کو توڑ کر بھاگ جاتے ہیں یونہی قرآن پاک کے الفاظ و معنی اگر اُن کی نگہداشت نہ کی جائے تو یہ انسان کے ذہن سے نکل جانے میں اُن اونٹوں سے بھی زیادہ سخت اور تیز ہیں۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جیسے اونٹ کو باندھنے کے باوجود اس سے غافل نہیں ہوتے اسی طرح قرآن شریف حفظ کرنے کے باوجود اپنے یاد پر اعتماد نہ کرو،یہ بہت جلد بھول جاتاہے کیوں نہ ہو کہ کلامِ الٰہی قدیم اور ہم حادث۔ہم کو اس سے نسبت ہی کیا ہے؟ یہ رب تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ ہم اسے سیکھ لیتے ہیں اور یہ ہمارے ذہنوں میں سما جاتا ہے، تو ہماری ذرا سی غفلت اور لاپرواہی سے یہ نعمت ہم سے جاتی رہے گی۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اگر اس کی تلاوت میں غفلت کی جائے تو یہ بہت جلد ذہن سے نکل جاتا ہے۔
(2) جس طرح اُونٹ کی رسّی کھل جائے تو وہ بہت تیزی سے بھاگ جاتا ہے اسی طرح حافظ اگر دُہرائی نہ کرے تو قرآنِ پاک اونٹ کے بھاگنے سے بھی زیادہ تیزی سے اُس کے ذہن سے نکل جاتا ہے۔
(3) قرآنِ پاک
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا کلام ہے اور قدیم ہے اور ہم حادِث ہیں، رب تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ یہ ہمارے ذہنوں میں سماجاتا ہے اور ہم اسے یاد کرلیتے ہیں تو ہماری ذرا سی لاپرواہی ہمارے لیے اس نعمت سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں قرآن پاک یادرکھنے اورکثرت سے اس کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1002