Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 728

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ اَبِيْ سَلَمَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ لِيْ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:سَمِّ اللهَ وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ.

عن عمر بن ابي سلمةرضي الله عنهما قال:قال لي رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عمر بن ابوسلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لے کر اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔ “

شرح حدیث

ہر مشروببِسْمِ اللّٰہپڑھ کر پئیں:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:اس حدیث کے راوی حضرت سَیِّدُنَا عمربنعبداللّٰہبن عبدُالاسدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُقرشی مخزومی ہیں۔یہ اُمّ المومنین حضر ت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکےفرزنداورحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےسوتیلےبیٹے ہیں۔سن 2ہجری میں حبشہ میں پیدا ہوئے،حضورانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے وقت آپ کی عمرمبارک 9 سال تھی۔83ہجری میں عبدالملک بن مروان کے زمانہ ٔحکومت میں وفات پائی،جنت البقیع شریف میں دفن ہوئے۔آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ایک مرتبہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے میں ہر طرف سے کھا رہا تھا جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہےتوآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھ سے فرمایا: ’’*اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام لے کر،*اپنے سیدھے ہاتھ اور*اپنے سامنے سے کھاؤ۔‘‘یعنی اپنے قریب سے کھاؤ ہرطرف سے نہ کھاؤ۔یہ تینوں حکم جمہورعلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک استحبابی ہیں اوربعض علماء کے نزدیک سیدھے ہاتھ سے کھانا واجب ہے۔اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ *کھانے کی ابتدا میں اتنی اونچی آواز سےجسے دوسرا سن سکےبِسْمِ اللّٰہپڑھنا مستحب ہے۔خیال رہے کہ *ہرپینےوالی چیزکو بھیبِسْمِ اللّٰہپڑھ کرپیا جائےخواہ وہ پانی،دودھ،شہد،شوربہ،دوایا اِن کے علاوہ کوئی مشروب ہو۔*اگرکھانے کے وقت پوری جماعت موجود ہوتوان میں سے کسی ایک کابِسْمِ اللّٰہکہنا سب کو کفایت نہ کرے گا بلکہ سنت کی ادائیگی کےلئے ہرشخصبِسْمِ اللّٰہپڑھے۔ *یہ بھی مستحب ہے کہ جب ایک ہی برتن میں سب مل کر کھا رہے ہوں توہرایک اپنی طرف سے کھائے کیونکہ دوسروں کے سامنے سے کھاناسُوءِمعاشرت اور خلافِ مُروّت ہونے کی وجہ سے باعثِ نفرت ہے،خاص طورپرجب شوربے والا کھانا ہویا اس جیسی کوئی رقیق غذا ہو۔ اگرکھانے والااکیلاہوتب بھی اپنے سامنے سے کھائےالبتہ اگر دستر خوان پرمختلف قسم کے کھانے ہوں توپھر مختلف جگہوں سے کھا سکتاہے۔کونسا کھانا بیماری ہے؟فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”جس کھانے پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام نہ لیا جائے وہ بیماری ہے، اس میں بَرکت نہیں ہوتی ۔اِس کا کفّارہ یہ ہے کہ اگرابھی دسترخوان نہ اُٹھا یا گیا ہو توبِسْمِ اللّٰہپڑھ کر کچھ کھا لے اور دسترخوان اٹھا لیا گیا ہو توبِسْمِ اللّٰہپڑھ کر اُنگلیاں چاٹ لے۔“ ہر صاحِبِ شان کام شُروع کرنے سے قبلبِسْمِ اللّٰہپڑھنا سنّتِ مبارکہ ہے ۔ اِسی طرح کھانے یا پینے سے قَبْل بھیبِسْمِ اللّٰہپڑھنا سُنّت ہے اور اس کی بڑی بَرکتیں ہیں۔مغفرت کی بشارت:حضرتِ سیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”آدَمی کے سامنے کھانا رکھا جاتاہے اور اٹھانے سے پہلے ہی اُس کی مغفِرت ہو جاتی ہے، کیونکہ جب کھانا رکھا جاتاہے تو وہبِسْمِ اللّٰہکہتا ہے اور جب اٹھایا جاتا ہے تواَلْحَمْدُ لِلّٰہکہتا ہے ۔“زَہر بے اثر ہوگیا:ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناخالِدبن ولیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےکسی نے عرض کی:ہمیں کوئی ایسی نشانی بتایئے جس سے ہم پراسلام کی حقّانِیَّت واضِح ہو اور ہم اسلام لے آئیں۔ یہ سن کر آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے زہرِقاتِل منگوایا اور”بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم“پڑھ کراُسے کھالیا۔بِسْمِ اللّٰہکی بَرَکت سےزہرنےآپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپرکوئی اثرنہ کیا۔یہ منظردیکھ کرمَجوسی بےساخْتہ پکاراُٹھے،دینِ اسلام حق ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ کھانے پینے سے قبل ”
بِسْمِ اللّٰہ“ شریف پڑھ لینے سے جہاں عظیم ثواب ملتا ہے وہیں دنیوی نقصان سے بھی حفاظت رہتی ہے ۔مدنی گلدستہ’’ بغداد ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کھانا
بِسْمِ اللّٰہپڑھ کر ، سیدھے ہاتھ سے اور اپنی طرف سے کھانا چاہیے۔
(2) دوسروں کے سامنے سے کھاناخلافِ مُرَوَّت ہے البتہ اگر دستر خوان پرمختلف قسم کے کھانے ہوں توپھر مختلف جگہوں سے کھا نے میں حرج نہیں۔
(3) جس کھانے پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام نہ لیا جائے وہ بیماری ہے اور اس میں برکت نہیں ہوتی ۔
(4) اگرچند افراد مِل کر کھا رہے ہوں تو سب کو
بِسْمِ اللّٰہپڑھنی چاہیے۔
(5) ہر جائز و نیک کام
بِسْمِ اللّٰہپڑھ کر شروع کرناسنت ِمبارکہ ہے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں کھانے سے پہلےبِسْمِ اللّٰہپڑھنے،سیدھے ہاتھ سے اور اپنی طرف سے کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 728