Main Icon

باب : صدق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 54

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِیْ إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ یَہْدِیْ إِلَی الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَصْدُقُ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللہِ صِدِّیْقًا، وَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِیْ إِلَی الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ یَہْدِیْ إِلَی النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللہِ کَذَّابًا‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (بخاری، کتاب الادب،باب قول اللہ تعالی یایھا الذین امنوا اتقوا…الخ، ۴/۱۲۵، حدیث:۶۰۹۴)

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:’’ إن الصدق یہدی إلی البر وإن البر یہدی إلی الجنۃ، وإن الرجل لیصدق حتی یکتب عند اللہ صدیقا، وإن الکذب یہدی إلی الفجور، وإن الفجور یہدی إلی النار، وإن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا‘‘۔ متفق علیہ (بخاری، کتاب الادب،باب قول اللہ تعالی یایھا الذین امنوا اتقوا…الخ، ۴/۱۲۵، حدیث:۶۰۹۴)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بے شک! سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بے شک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں صِدِّیْق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ بے شک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں کَذّاب (یعنی بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھ دیا جاتا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

صِدْق( سچ) کیا ہے ؟علامہ سَیِّد شریف جُرْجَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اپنی مایہ ناز تصنیف ’’اَلتَّعْرِیْفَات‘‘ میں صِدْق یعنی سچ کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’اَلصِّدْقُ فِی اللُّغَۃِ مُطَابَقَۃُ الْحُکْمِ لِلْوَاقِعِ وَفِی الْاِصْطِلَاحِ قَوْلُ الْحَقِّ فِیْ مَوَاطِنِ الْہَلَاک‘‘ترجمہ :صدق کا لُغَوی معنی ہے ’’واقعہ کے مطابق خبر دینا‘‘ اور اہلِ حقیقت کی اصطلاح میں مقام ہلاکت پر(یعنی جہاں سچ بولنے میں جان کا خطرہ ہو وہاں ) حق بات کہنا سچ ہے۔ (التعریفات، باب الصاد، ص۹۵) معلوم ہوا کہ جہاں جان کا خطرہ ہو اور جھوٹ بولنے سے جان بچ سکتی ہو ایسی جگہ حق بات بیان کرنا سچ کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ۔سچ مومن کے اعلیٰ اخلاق میں سے ہےعَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّار شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :یہ حدیث اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس قول کا مصداق ہے:اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ(۱۳) وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ(۱۴)(پ۳۰، الانفطار:۱۳۔۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک نکو کار ضرور چَین میں ہیں اور بے شک بد کار ضرور دوزخ میں ہیں۔
یعنی سچائی انسان کو اَبراروں (نیک لوگوں )کے گِروہ میں داخل کر دیتی ہے اور اَبراروں کے لئے جنت کی نعمتیں ہیں جبکہ جھوٹ انسان کو فُجَّاروں میں داخل کر دیتا ہے اور ان کے لئے جہنم ہے۔
صِدْق مومن کے اعلیٰ اخلاق میں سے ہے،جیسا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس فرمان سے واضح ہوتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)(پ۱۱، التوبۃ:۱۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو، اور سچوں کے ساتھ ہو۔
مذکورہ آیت میں صِدْق کو تقویٰ کے فوراً بعد ذکر کیا گیا ہے( یعنی جس طرح تقویٰ ایک بہت اچھی صفت ہے اور مُتَّقِیْن کا اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں بہت اُونچا مقام ہے۔ اِسی طرح صِدْق بھی بہت ہی اچھی صفت ہے۔)حضرتِ سَیِّدُنا حکیم لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانسے کسی نے پوچھا : آپ کو یہ بلند مرتبہ ومقام کس عمل کے سبب حاصل ہوا ؟ فرمایا:’’ سچی بات کہنے، امانت میں خیانت نہ کرنے اور فضول باتوں کو چھوڑدینے کے سبب ۔‘‘ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب،باب قول اللہ عزوجل یایھا الذین امنوا اتقوا…الخ، ۹/۲۸۰)
برائیوں کی جڑعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں الفاظِ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’بِرّ‘‘ وہ نیک عمل ہے جو ہر بُری نیت سے پاک ہو، اور ’’بِرّ‘‘ تمام نیکیوں پر بولا جاتا ہے۔ ’’صِدِّیق‘‘ اسمِ مبالغہ ہے یعنی بہت زیادہ سچ بولنے والا ۔ ’’فُجُور‘‘ وہ چیز جو فساد کی طرف لے جائے اور ایک قول یہ ہے کہ فجور وہ چیز ہے جو برائی کی طرف اُبھارے اور یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور یہ دونوں (بِرّ اور فُجُور)ایک دوسرے کے مُقَابِل (ضِد)ہیں۔’’سچ بولنے والے کو صدیق لکھ دیا جاتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ صدِّیق کہلانے کا مُسْتَحِق ہو جاتا ہے اور اس کے لئے صِدِّیْقِیْن کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔(عمدۃ القاری، کتاب الادب،باب قول اللہ عزوجل یایھا الذین امنوا اتقوا …الخ، ۱۵/۲۴۰، تحت الحدیث:۶۰۹۴)
اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :’’ اس حدیث میں سچ بولنے پر ابھارا گیا ہے جھوٹ اور اس میں نرمی برتنے سے ڈرایا گیا ہے کیونکہ جو جھوٹ کے معاملے میں غفلت برتے گا وہ جھوٹ بولنے لگے گا اور لوگوں میں جھوٹا مشہور ہو جائے گا۔(شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب قبح الکذب و حسن الصدق، ۸/۱۶۰، الجزء السادس عشر)
جھوٹا ہونا سب پر ظاہر کردیا جاتا ہےعَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الباری میں فرماتے ہیں : حدیث پاک میں فرمایا گیاکہ ’’بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اسے بہت زیادہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے یعنی اس کے لئے یہ حکم کر دیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے، فرشتوں پر اس کا جھوٹا ہونا ظاہر کر دیا جاتا ہے اور زمین والوں کے دلو ں میں بھی یہ بات ڈال دی جاتی ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْخَالِق حضرتِ سَیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل پہ ایک سیاہ نکتہ پڑجاتاہے یہاں تک کہ اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتاہے ۔‘‘ (فتح الباری، کتاب الادب، باب قول اللہ عزوجل یایھا الذین امنوا اتقوا…الخ، ۱۱/۴۳۰، تحت الحدیث:۶۰۹۴)جھوٹ کی قباحت سے متعلق 4 روایات ملاحظہ فرمائیے:
(1)فرشتے دور ہو جاتے ہیں
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا سے مروی ہے کہ صَادِق ومَصْدُوْق نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’اِذَاکَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْہُ الْمَلَکُ مِیْلًا مِنْ نَتْنِ مَاجَائَ بِہٖ‘‘ ترجمہ: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ ، باب ماجاء فی الصدق والکذب، ۳/۳۹۲، حدیث:۱۹۷۹)(2) بڑے گناہدافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :کیامیں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں ؟ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرناہے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا : جھوٹ بولنا اورجھوٹی گواہی دینا آپ بار بار یہ فرماتے رہے۔‘‘ (مسند امام احمد، مسندالبصریین، ۷/۳۰۶، حدیث:۲۰۴۰۷)(3)سب سے زیادہ ناپسند یدہ لوگرسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے: قیامت کے دن آٹھ) (8 قسم کے افراد اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہوں گے: (۱)جھوٹ بولنے والے(۲)تکبر کرنے والے (۳)وہ لوگ جو اپنے سینوں میں اپنے بھائیوں سے بغض چھپاکررکھتے ہیں جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تویہ ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں (۴)وہ لوگ کہ جب انہیں اللہ عزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف بلایا جاتا ہے تو ٹال مٹول کرتے ہیں اور جب شیطانی کاموں کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس میں جلدی کرتے ہیں (۵)وہ لوگ جو کسی دُنیوی خواہش کی تکمیل پرقدرت پاتے ہیں تو قسمیں اٹھا کر اسے جائز سمجھنے لگتے ہیں اگرچہ وہ ان کے لئے جائزنہ ہو(۶)چغلی کھانے والے (۷)دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اور (۸)نیک لوگوں کے گناہ میں مبتلا ہونے کی تمناکرنے والے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عزَّوَجَلَّ ناپسند فرماتا ہے۔ (کنزالعمال، کتاب المواعظ، قسم الاقوال،الباب الثانی الفصل الثامن، ۸/۳۹، حدیث:۴۴۰۳۷، الجزء السادس عشر)(4) منافق کی علامتیںسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:4باتیں جس میں ہوں گی وہ پکا منافق ہو گا اور جس میں ان میں سے ایک بات ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے:(۱)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے (۲)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۳)جب وعدہ کرے تو دھوکا دے اور (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی دے۔(بخاری ،کتاب الایمان ، باب علامات المنا فق، ۱/۲۵، حدیث:۳۴)
مذکورہ بالاروایات سے جھوٹ کی قباحت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ جھوٹ وسچ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جھوٹوں سے اللہ عزَّوَجَلَّ ناراض ہوتا ہے تو سچوں کو بہت زیادہ پسند فرماتا ہے ان پر اپنے انعام واکرام کی برسات فرماتا ہے ۔ آئیے سچ سے متعلق کچھ روایات وحکایات ملاحظہ کرتے ہیں۔
سچ کو لازم پکڑلو!تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں ( سچائی اور نیکی ) جنت میں ہیں اور جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ یہ گناہ کے ساتھ ہے اور یہ دونوں (جھوٹ اورگناہ ) جہنم میں (لے جانے والے) ہیں۔‘‘ (الاحسان، باب الکذب، ۷/۴۹۴، حدیث:۵۷۰۴)سچ میں نجات ہےاللہ عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: سچ بولاکرو، اگر چہ تمہیں اس میں ہلا کت نظر آئے کیونکہ اسی میں نجات ہے۔ (مکارم الاخلاق، باب فی الصدق …الخ، ص۱۱۱، حدیث:۱۳۷)
معلوم ہوا کہ سچ ہی میں انسان کی نجات ہے ،سچائی مومن کی وہ اعلیٰ ترین صفت ہے کہ جو اسے جنت میں داخل کرا دیتی ہے ،سچے آدمی کواپنے تو اپنے غیر بھی پسند کرتے ہیں اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سچائی کی وجہ سے نا جانے کتنے لوگ راہِ راست پرآ جاتے ہیں۔ چنانچہ، اس ضمن میں ہمارے غوث پاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَزّاق کی سچائی کا ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظ فرمائیے کہ ان کے ایک سچ نے کتنوں کی بگڑی بنا دی چنانچہ، منقول ہے کہ
ڈاکوؤں کے سردار کی توبہایک قافلہ گیلان سے بغداد کی طرف رواں دواں تھا۔ جب یہ قافلہ ہم دان شہر سے روانہ ہوا تو جیسے ہی جنگل شروع ہوا ڈاکوؤں کا ایک گروہ نمودار ہوا اور قافلے والوں سے مال واسباب لوٹنا شروع کر دیا۔ اس قافلے میں ایک نوجوان بھی تھا جس کی عمر اٹھارہ سال کے لگ بھگ تھی۔ ایک ڈاکواس نوجوان کے پاس آیا اور کہنے لگاـ∞:صاحبزادے تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟نوجوان بولا: میرے پاس چالیس دینار ہیں جوکپڑوں میں سلے ہوئے ہیں۔راہزن نے کہا کہ صاحبزادے!مذاق نہ کرو سچ سچ بتاؤ؟ نوجوان نے بتایا :میرے پاس واقعی چالیس دینار ہیں یہ دیکھو میری بغل کے نیچے دیناروں والی تھیلی کپڑوں میں سلی ہوئی ہے، راہزن نے دیکھا تو حیران رہ گیا اور نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سار اواقعہ بیا ن کیا۔ سردار نے کہا :نوجوان! کیا بات ہے لوگ تو ڈاکوؤں سے اپنی دولت چھپاتے ہیں مگر تم نے سختی کئے بغیر اپنی دولت ظاہر کر دی؟ تو اس نوجوان نے کہا: میری ماں نے گھر سے چلتے وقت مجھ سے یہ وعدہ لیا تھا کہ بیٹا! ہر حال میں سچ بولنا۔ بس میں اپنی والدہ کے ساتھ کیا ہو اوعدہ نبھا رہا ہوں۔
نوجوان کا یہ بیا ن تاثیر کاتیر بن کر ڈاکوؤں کے سردار کے دل میں پیوست ہوگیا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا دریاچھلکنے لگا۔ اس کاسویا ہوامقدر جاگ اٹھا ، وہ کہنے لگا:صاحبزادے!تم کس قدر خوش نصیب ہو کہ دولت لٹنے کی پروا کئے بغیر اپنی والدہ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ نبھا رہے ہو اور میں کس قدر ظالم ہوں کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پامال کر رہا ہوں اور مخلوق خدا کا دل دُکھا رہا ہوں۔ یہ کہنے کے بعدوہ ساتھیوں سمیت سچے دل سے تائب ہو گیا اورلوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا۔ (بہجۃ الاسرار ومعدن الانوار، ص۱۶۷، ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وہ نوجوان ہمارے پیارے مرشد سَیِّدُنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی تھے جن کے سچ کی برکت سے ڈاکوؤں کا سردار اپنے ساتھیوں سمیت اپنی گناہوں بھری زندگی سے توبہ کرکے راہ ہدایت پر گامزن ہوگیا۔ اس حکایت میں حضور غوث پاک عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق اپنے عمل کے ذریعے ہمیں گویا یہ درس دے رہے ہیں کہ زندگی میں انسان پر کیسا ہی کڑا وقت کیوں نہ آن پڑے اور کیسی ہی سخت ترین مصیبت میں کیوں نہ مبتلا ہوجائے مگر اس کے باوجود کبھی بھی جھو ٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے بلکہ ہم یشہ سچی بات اپنی زبان سے نکالنی چاہئے کہ سچ کے بڑے فضائل ہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ روزِقیامت ان لوگوں کو بے شمار انعام واکرام سے نوازے گاجودنیا میں سچائی کے خوگر ہونگے۔
سچائی کی بدولت درجات کی بلندیحضرت سیِّدُنا بِشْر بِنْ بَکْر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْبَر فرماتے ہیں :میں نے حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کو علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کے ایک گروہ کے ساتھ جنت میں دیکھ کر پوچھا: حضرتِ سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کہاں ہیں ؟ کہا:ان کے درجات توبہت بلند ہیں۔میں نے پوچھا: کس سبب سے ؟کہا :’’ اُن کی سچائی کی بدولت ۔‘‘(التمھید، باب ذکر عیون من اخبار مالک وذکر فضل موطئہ، ۱/۵۶)مدنی گلدستہ
’’صادِق‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور
اوراس کی وضاحت سے ملنے والے4 مد نی پھول
(1) سچ تمام بھلائیوں کا سبب اورجنت کا راستہ ہے۔ جبکہ جھوٹ تما م برائیوں کی جڑ اور جہنم کا راستہ ہے ۔
(2) جھوٹ سے بندے کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ۔اگر توبہ نہ کرے اور مسلسل جھوٹ بولتا رہے تو پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔
(3) جھوٹے کا جھوٹ فرشتوں پر ظاہر کر دیا جاتا ہے اور انسانوں کے دلوں میں بھی اس کی نفرت ڈال دی جاتی ہے۔
(4) انسان کو ہر حال میں سچ ہی بولنا چاہیے کیونکہ نجات سچ ہی میں ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے نیک اور سچے بندوں کے صَدقے ہمیں بھی اپنا مُخْلِص و سچا بندہ بنائے ،ہر حال میں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭∞…٭∞…٭∞…٭∞…٭∞…٭∞

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 54