Main Icon

باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1228

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِاللهِ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: اَللّٰهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ هِلَالُ رُشْدٍو خَيْرٍ.

عن طلحة بن عبيدالله رضی اﷲ عنہ ان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم كان اذا راى الهلال قال: اللهم اهله علينا بالامن والايمان والسلامة والاسلام ربي وربك الله هلال رشدو خير.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا طلحہ بن عُبَیْدُاﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب پہلی رات کا چاند دیکھتے تو یوں دعا کرتے:”اَللّٰهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ هِلَالُ رُشْدٍ وَخَيْرٍیعنی اےاﷲعَزَّ وَجَلَّ!اس چاندکو ہم پرامن وایمان اورسلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ اے چاند!میرا اور تیرا ربّاﷲہے، یہ ہدایت اور بھلائی کاچاند ہے۔“

شرح حدیث

دعا کے مضامین:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مہینے کا چاندپہلی مرتبہ دیکھتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔یہ دعا کئی اُمُور پرمشتمل ہے،مثلاًخالقِ کائنات کی تعریف،مَصائب سےامن وحُصُولِ منفعت کا سوا ل،توحید کااظہار،مشرکین کا ردّ،تَوَکُّل عَلَی اﷲکی دعوت،تعلیمِ اُمَّت وغیرہ۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے :”رسولُ
اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممہینے کا چاند پہلی مرتبہ دیکھتےتو یوں دعا کرتے:”اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!اس چاند کو امن و ایمان اورسلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔“ اس دعا میں امن و ایمان کا ذِکر کر کے ہر نقصان سے حفاطت اورسلامتی و اسلام کا ذکر کر کے ہرطرح کی منفعت طلب کی گئی ہے۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چاند سےفرمانا کہ”میرااورتیرا ربّاﷲہے۔“اس جملے میںاﷲ عَزّوَجَلَّکی پاکی ہےکہ مخلوق کو پیدا کرنے میںاﷲعَزَّ وَجَلَّکا کوئی شریک نہیں اور اُن مشرکین کا ردّ ہے جو چاند،سورج جیسی چیزوں کو اپنا معبود جانتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حالات کی تبدیلی اور آیاتِ الٰہیہ کے ظہور کے وقت دعا کرنا مستحب ہے۔“اشعۃ اللمعات میں ہے:”اِس دعا سے مراد یہ ہے کہ اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!اس مہینے میں ہمیں نفس کی آفتوں اورحوادثِ زمانہ کی خوفناک چیزوں سےامن عطافرما، ایمان کی پختگی میں اضافہ فرما، ہمارے دِلوں کی سلامتی اوراسلام کو مزید عروج عطافرما، ہمیں اَحکامِ اِلٰہیہ پرعمل کرنے کی توفیق مرحمت فرما،اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ !یہ چاندان تمام خوبیوں کے ساتھ ہم پرچمکتارہے۔“
فیض القدیرمیں ہے:”اس دعا میں خالقِ کائنات کی تعریف ہےکہ چاند کواس عجیب و غریب طریقے سے لانے اورلے جانے پرخدائے واحدوقہارکےسواکوئی قادرنہیں۔’’اے چاند!تیرااورمیرارب
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہے۔“اس فرمانِ عالی میں اس بات کی تعلیم ہےکہ جب حالات میں تبدیلی رونما ہویاآیاتِ الٰہیہ کا ظہورہوتو اسباب کے بجائے خالقِ اسباب کی طرف توجہ ہونی چاہیے،ربّ کی طرف دھیا ن ہونا چاہیے نہ کہ مخلوق کی طرف۔“مدنی گلدستہ’’بقیع‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حالات کی تبدیلی اور آیاتِ الٰہیہ کے ظہور کے وقت دعا کرنا مستحب ہے۔
(2) ہر شے کو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہی تاثیر عطافرماتاہے کسی بھی شے میں بذاتِ خود کوئی تاثیر نہیں۔
(3) اس جہاں میں عقل مندوں کےلئےقدم قدم پر ایسی نشانیاں ہیں جو ربّ تعالیٰ کی عظمت و وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
(4) حالات کی تبدیلی کے وقت توجہ اَسباب کے بجائے خالقِ اسباب کی طرف ہونی چاہیے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں نیاچاند دیکھ کر دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1228