Main Icon

باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1255

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْاِثْنَيْنِ فَقَالَ: ذٰلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيْهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَيَّ فِيْهِ.

عن ابي قتادة رضي الله عنه : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن صوم يوم الاثنين فقال: ذلك يوم ولدت فيه ويوم بعثت او انزل علي فيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو قتادۃرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صاحِبِ لولاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پیرکے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:”اِسی دن میری ولادت ہوئی اوراسی دن مبعوث کیا گیا (یافرمایا:)اوراسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔“

شرح حدیث

پیر کے دن دنیا کو دو نعمتیں ملیں:حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” پیر کے دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔‘‘مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتےہیں:”یعنی پیر کے دن دنیا کو دو نعمتیں ملیں:ایک میری تشریف آوری اور دوسری نزولِ قرآن کی ابتدا کہ غارِ حرا میں پہلی وحی﴿ اِقْرَاْ بِاسْمِ﴾پیر کے دن ہی آئی لہٰذا اس دن روزہ رکھنا بہت ہی بہتر ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:
*ایک یہ کہ وقت اور جگہ اَشرف واقعات کی وجہ سے اَشرف ہوجاتے ہیں۔
*دوسرے یہ کہ حضو رِ انور
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَکی ولادتِ کریمہاﷲ تعالٰیکی بڑی ہی نعمت ہے کہ حضورِ انورصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنے اسے نعمتوں میں شمار کیا،ربّ تعالیٰ نے صرف اس نعمت پرمَنَّفرما کر اِحسان جتایا کہ فرمایا:﴿ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ﴾(پ۴،آل عمران:۱۶۴) (ترجمۂ کنزالایمان:بے شکاﷲکا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر)
*تیسرے یہ کہ اہم واقعات کی یادگاریں منانا سنت سے ثابت ہے۔
*چوتھے یہ کہ یادگار میں کھیل کود نہ ہونا چاہیے بلکہ عبادتیں ہوں اس سے میلاد شریف،عیدِ معراج،عرس وغیرہ کا ثبوت ہوتاہے۔
*پانچویں یہ کہ امام مالک کے ہاں پیر کا دن جمعہ سے بھی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔“
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدپیر شریف کے دن ولادتِ باسعادت کی وجہ:علّامہ ابو عبداﷲمحمد بن محمد بن الحاج مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیپیر شریف کےدن حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادت باسعادت کی وجہ تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اگر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دنیا میں تشریف آوری رمضان،شعبان کی پندرہویں شب یا جمعہ کی شب کو ہوتی توان فضیلت والے ایام کےضمن آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی فضیلت سمجھی جاتی مگرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادتِ باسعادت ماہ ِربیع الاول میں پیر شریف کے دن ہوئی تو اس ماہ اور دن کو آپ کی وجہ سےفضیلت ملی اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کسی سے فضیلت نہیں پاتے بلکہ کائنات میں جسے کوئی فضیلت ملتی ہے وہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ملتی ہے ۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1255